یاد رُکتی نہیں

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

یاد رُکتی نہیں

ٹوٹتی ہے بجھی آنکھ سے

قطرۂ آب بن کر پھسلتی ہے

رخسار کی نرم ڈھلوان پر

سسکیوں کی صدا سے

اُلجھتی ہے

گاتی ہے

دل کے حسیں تار کو

چھیڑتی ہے

مچلتے ، سلگتے ہوئے

گرم جذبوں کو چھوتی ہے دھیرے سے

لیکن کبھی یاد رُکتی نہیں

مجھ سے کہتی ہے

چھو لو مجھے ، تھام لو ،

میں کہیں گُم زمانوں کے اندھے تسلسل

سے لپٹی ہوئی

ایک زنجیر ہوں

اور میں حیرت سے تکتی ہوں

کیسے مرے سرد پہلو میں

ہر پل دھڑکتی ہے

بہتی ہے سانسوں کے دھارے میں

رہتی ہے جیون سفر میں مرے ساتھ

میں جو کبھی رُک بھی جاؤں مگر

یاد رُکتی نہیں

سرسراتی ہے پتوں کے پیچھے

حسیں چاند کی اوٹ سے

جھانکتی ہے ، جھلکتی ہے

شبنم کی شفاف بوندوں میں

جھونکوں کی باہوں میں

ہلکورے لیتی ہوئی

ڈولتی ہے ، مچلتی ہے

چھو لے گی جیسے

کسی ان کہی کو

مچلتے ہوئے درد کے

ایک سیلاب میں

بہتی جاتی ہے ان دیکھے

برفیلے رستوں پہ

پلکوں کے پیچھے

کہیں جھلملاتی ہے

بجھتی ہوئی راکھ سے

اِک دھواں بن کے اٹھتی ہے

اور تیرتی ہے کہیں

ڈبڈبائی ہوئی آنکھ کے پانیوں میں

سلگتی ہوئی پتلیوں کے تلے

ڈگمگاتی ہے

دُکھ کی کوئی موج

اندھا تلاطم ہو

طوفاں ہو، جھکتی نہیں

یاد رُکتی نہیں

گلناز کوثر

گلناز کوثر

اردو نظم میں ایک اور نام گلناز کوثر کا بھی ہے جنہوں نے نظم کے ذریعے فطرت اور انسان کے باطن کو ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ گلناز کوثر کا تعلق لاہور سے ہے تاہم پچھلے کچھ برس سے وہ برطانیہ میں مقیم ہیں، انہوں نے اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی کی تعلیم بھی حاصل کی، البتہ وکیل کے طور پر پریکٹس کبھی نہیں کی۔ وہ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے ریسرچ اینڈ پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ رہیں، علاوہ ازیں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے عالمی ادب بھی پڑھایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ دو ہزار بارہ میں ’’خواب کی ہتھیلی پر‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔