گلناز کوثر

اردو نظم میں ایک اور نام گلناز کوثر کا بھی ہے جنہوں نے نظم کے ذریعے فطرت اور انسان کے باطن کو ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ گلناز کوثر کا تعلق لاہور سے ہے تاہم پچھلے کچھ برس سے وہ برطانیہ میں مقیم ہیں، انہوں نے اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی کی تعلیم بھی حاصل کی، البتہ وکیل کے طور پر پریکٹس کبھی نہیں کی۔ وہ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے ریسرچ اینڈ پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ رہیں، علاوہ ازیں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے عالمی ادب بھی پڑھایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ دو ہزار بارہ میں ’’خواب کی ہتھیلی پر‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔

رقص گریہ

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

یاد رُکتی نہیں

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

بارش

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

رات کے دو پہر

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

اِقرار

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

کوئی نہیں ہے

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

درد

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

سن رائیگاں

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

قیدی چڑیاں

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

کیا لگتا ہے

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

عید

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

نائٹ میئر

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

بس ایک بوند زندگی

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

بس کی کھڑکی سے

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے

خود کلامی

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

4 سال پہلے