سب توڑ دیں حدود مرا دل نہیں لگا

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

سب توڑ دیں حدود مرا دل نہیں لگا
زندان تھا وجود مرا دل نہیں لگا

من میں منافقت لئے پڑھتی رہی نماز
تھے نام کے سجود مرا دل نہیں لگا

اے رب دو جہان ترے اس جہان میں
کوشش کے باوجود مرا دل نہیں لگا

اس بار شوق وصل کی لذت بھی کھو گئی
طاری رہا جمود مرا دل نہیں لگا

دنیائے رنگ و رس سے بھی اکتا گئی ہوں میں
کیا رقص کیا سرود مرا دل نہیں لگا

میں جا رہی ہوں چھوڑ کے اے ساکنان شہر
یہ قریۂ نمود مرا دل نہیں لگا

کومل جوئیہ

گلناز کوثر

اردو نظم میں ایک اور نام گلناز کوثر کا بھی ہے جنہوں نے نظم کے ذریعے فطرت اور انسان کے باطن کو ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ گلناز کوثر کا تعلق لاہور سے ہے تاہم پچھلے کچھ برس سے وہ برطانیہ میں مقیم ہیں، انہوں نے اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی کی تعلیم بھی حاصل کی، البتہ وکیل کے طور پر پریکٹس کبھی نہیں کی۔ وہ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے ریسرچ اینڈ پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ رہیں، علاوہ ازیں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے عالمی ادب بھی پڑھایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ دو ہزار بارہ میں ’’خواب کی ہتھیلی پر‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔