لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ گئے

میثم علی آغا کی ایک اردو غزل

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ گئے
ہم لوگ خاک اوڑھ کے قبروں میں آ گئے

آ جا کہ اب تو سارا زمانہ بدل گیا
خانہ بدوش لوگ بھی شہروں میں آ گئے

مدت کے بعد آئینہ دیکھا تو رو پڑا
اندر کے درد چہرے کی جھریوں میں آ گئے

اتنی سُبُک روی سے چلی ہے یہ زندگی
رستے کے گرد باد بھی روحوں میں آ گئے

یہ کس کی یاد نے درِ دل کھٹکھٹا دیا
دریا کہاں سے بانجھ سی آنکھوں میں آ گئے

کس کم سخن کی خامشی پھیلی ہے صحن میں
یہ کس کے خدّ و خال گلابوں میں آ گئے

ایسی حوادثات کی لُو چل پڑی ہے یار
مخمل مزاج خاک کی بانہوں میں آ گئے

بوڑھے مورخین نے روتے ہوۓ لکھا
آخر چراغ رات کی باتوں میں آ گئے

جانے کہاں لے جاۓ گی میثم یہ زندگی
اب تو غبارِ راہ دریچوں میں آ گئے

میثم علی آغا

میثم علی آغا

نام : میثم علی آغا - بنیادی طور پر سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق ہے مگر پچھلے دس سال سے اٹلی میں مستقل مقیم ہوں - کتابیں پکھی واس (پنجابی مجموعہ) میں تجھ کو یاد آؤں گا (اردو شعری مجموعہ) ابھی موسم سسکتے ہیں (اردو شعری مجموعہ) ارتجال (اردو شعری مجموعہ) در بدری: پاکستان سے اٹلی تک پیدل سفر کی کہانی (زیرِ طباعت) - اٹالین زبان میں نظموں کا مجموعہ چھپ چکا ہے