ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے
تہذیبِ زندگی بھی ہے تو مت سکھا مجھے
تُو بھی کبھی ملے گا تو پہچانے گا نہیں
اتنا نگل چکا ہے یہ تیرا خلا مجھے
میں تھک کے رکھنے آیا تھا عمرِ گریز پا
اے بچھڑے دوست تُو یہ کہاں آ ملا مجھے
میں اپنے آپ کو بھی نہیں عمر بھر ملا
جانے سنبھال کے وہ کہاں رکھ گیا مجھے
اے پھول جیسے شخص ترے خال و خد کی خیر
تُو خوش ہے مجھ کو بھول کے اچھا لگا مجھے
صدیوں سے اُجڑا میں کوئی بے نام سا کھنڈر
پھر بھی یہ حسرتیں کہ کوئی دیکھتا مجھے
میں شاخ سے گرا ہوا پتا نہیں ہوں یار
کیوں ٹھوکروں پہ رکھتی ہے اندھی ہوا مجھے
میثم میں اُس کے بعد کبھی ہنس نہیں سکا
جب سے مجھے کسی نے کہا بھول جا مجھے
میثم علی آغا