شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

میثم علی آغا کی ایک اردو غزل

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان شب بخیر
اب سو گئے ہیں شہر کے دربان شب بخیر

اک ایک کر کے ہو چکے رخصت تمام لوگ
اب ہو چکی ہیں محفلیں ویران شب بخیر

کوئی تو ہو کہ جس کو گلے سے لگا کے ہم
آہستگی سے کہہ دیں مِری جان شب بخیر

اچھا مسافروں کو اجازت دیں عالی جاہ
لمبا سفر ہے راہ بھی سنسان شب بخیر

تاروں کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہوئی ہیں یار
کوئی نہیں کسی کا بھی امکان شب بخیر

ایسا نہ ہو کہ پھر کہیں جا ہی نہ پائیں ہم
چلتے ہیں دوست، اللہ نگہبان، شب بخیر

گُل کر رہا ہوں روتے ہوۓ اب چراغِ شب
اے میثمِ تہی دل و دامان شب بخیر

میثم علی آغا

میثم علی آغا

نام : میثم علی آغا - بنیادی طور پر سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق ہے مگر پچھلے دس سال سے اٹلی میں مستقل مقیم ہوں - کتابیں پکھی واس (پنجابی مجموعہ) میں تجھ کو یاد آؤں گا (اردو شعری مجموعہ) ابھی موسم سسکتے ہیں (اردو شعری مجموعہ) ارتجال (اردو شعری مجموعہ) در بدری: پاکستان سے اٹلی تک پیدل سفر کی کہانی (زیرِ طباعت) - اٹالین زبان میں نظموں کا مجموعہ چھپ چکا ہے