شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان شب بخیر
اب سو گئے ہیں شہر کے دربان شب بخیر
اک ایک کر کے ہو چکے رخصت تمام لوگ
اب ہو چکی ہیں محفلیں ویران شب بخیر
کوئی تو ہو کہ جس کو گلے سے لگا کے ہم
آہستگی سے کہہ دیں مِری جان شب بخیر
اچھا مسافروں کو اجازت دیں عالی جاہ
لمبا سفر ہے راہ بھی سنسان شب بخیر
تاروں کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہوئی ہیں یار
کوئی نہیں کسی کا بھی امکان شب بخیر
ایسا نہ ہو کہ پھر کہیں جا ہی نہ پائیں ہم
چلتے ہیں دوست، اللہ نگہبان، شب بخیر
گُل کر رہا ہوں روتے ہوۓ اب چراغِ شب
اے میثمِ تہی دل و دامان شب بخیر
میثم علی آغا