وقت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے
خواب تعبیر میں ڈھلتا ہوا رہ جاتا ہے
تجھ سے ملنے بھی چلا آتا ہوں ملتا بھی نہیں
دل تو سینے میں مچلتا ہوا رہ جاتا ہے
ہوش آتا ہے تو ہوتی ہے کماں اپنی طرف
اور پھر تیر نکلتا ہوا رہ جاتا ہے
شمشیر حیدر
سلام اردو ایڈیٹر
رشید حسرت کی ایک اردو نظم
سہیل احمد صمیم کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
وصال عباسی کی ایک اردو غزل