وقت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے
خواب تعبیر میں ڈھلتا ہوا رہ جاتا ہے
تجھ سے ملنے بھی چلا آتا ہوں ملتا بھی نہیں
دل تو سینے میں مچلتا ہوا رہ جاتا ہے
ہوش آتا ہے تو ہوتی ہے کماں اپنی طرف
اور پھر تیر نکلتا ہوا رہ جاتا ہے
شمشیر حیدر
سلام اردو ایڈیٹر
اردو غزل از بشیر بدر
محمد یوسف میاں برکاتی کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از ایم اے دوشی
میثم علی آغا کی ایک اردو غزل