وقت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے
خواب تعبیر میں ڈھلتا ہوا رہ جاتا ہے
تجھ سے ملنے بھی چلا آتا ہوں ملتا بھی نہیں
دل تو سینے میں مچلتا ہوا رہ جاتا ہے
ہوش آتا ہے تو ہوتی ہے کماں اپنی طرف
اور پھر تیر نکلتا ہوا رہ جاتا ہے
شمشیر حیدر
سلام اردو ایڈیٹر
ایک اردو غزل از طارق قمر
صنم فاروق کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از رفیق لودھی
محبت کا جہاں لکھا، وفاؤں کا سماں لکھا ہوا ربّ مہرباں میں نے کبھی جو…
ایک اردو غزل از رشید حسرت