تو ہے کہ جس کے واسطے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

تو ہے کہ جس کے واسطے طعنے زمانے کے لیئے
بے چین آنے کے لیئے، بے صبر جانے کے لیئے

دل کا لگانا کیا میاں، دھوکے میں آنا کیا میاں
آیا تو ہوں میں بھی مگر پھر لوٹ جانے کے لیئے

ایسا حسیں مُکھڑا کبھی دیکھا نہیں ہے با خدا
چہرہ تلاوت کے لیئے، زلفیں ہیں شانے کے لیئے

دل کو جلا کے رکھ دیا، شعلہ بنا کے رکھ دیا
لب پر سجا لی ہے ہنسی میں نے لٹانے کے لیئے

خوفِ خدا بھی وصف ہے، آدم کا اس میں امتحاں
دولت بھی دی، طاقت بھی دی ہے آزمانے کے لیئے

جو داستانِ عشق ہے،اس میں بڑی لذّت سہی
کچھ ہے حقیقت بھی مگر، کچھ ہے فسانے کے لیئے

کس کس کے چہرے سے اتاریں دوغلے پن کی نقاب
بکتے ہوئے دیکھے کئی آنے دوانے کے لیئے

اپنی مرادیں لوگ سب لے کر چلے اس دہر سے
ہم ہی فقط آئے یہاں آنسو بہانے کے لیئے

تم جو ملے تو یوں لگا منزل مری مل ہی گئی
تھی چاہیے اک تھاں مجھے دل کے ٹھکانے کے لیئے

حسرتؔ سبھی کی عاقبت بنتی ہوئی دیکھی یہاں
میں بھی چلا آیا تجھے اپنا بنانے کے لیئے

رشید حسرتؔ

۲۹ اکتوبر ۲۰۲۴ (صبح پونے گیارہ بجے مکمل ہوئی)

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔