یہ سوال صدیوں سے عورت کے گرد بُنے گئے اُن تصورات کا حصہ ہے جنہیں مردانہ سماج نے اپنی سہولت کے لیے تراشا۔ عورت کو ہمیشہ ایک ایسے وجود کے طور پر پیش کیا گیا جو محبت کی محتاج ہے جو کسی مرد کے سہارے کے بغیر مکمل نہیں جو چند میٹھے لفظوں، جھوٹے وعدوں اور مصنوعی توجہ کے بدلے اپنی زندگی، خواب، جسم اور جذبات سب کچھ قربان کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عورت محبت کی بھوکی ہے یا اسے جان بوجھ کر ایسا ثابت کیا گیا تاکہ اس کے جذبات سے کھیلا جا سکے؟
پاکستانی معاشرے میں عورت کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ اسے ایک انسان کی بجائے ایک جذباتی مخلوق سمجھا گیا۔ بچپن سے اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد کسی مرد کی محبت حاصل کرنا ہے۔ اسے کہانیوں، ڈراموں، فلموں اور شاعری کے ذریعے باور کرایا جاتا ہے کہ عورت کی کامیابی اس کے محبوب یا شوہر سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مرد محبت کے نام پر اُس کے قریب آتا ہے تو عورت اکثر اسے اپنی زندگی کا مرکز سمجھنے لگتی ہے۔ مرد اسی نفسیات کو استعمال کرتا ہے۔ وہ محبت کو ایک ہتھیار بناتا ہے، وعدوں کو جال بناتا ہے اور عورت کے اعتماد کو شکار گاہ میں بدل دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں شادی کے خواب دکھا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ "میں تم سے شادی کروں گا”، "تم میرے بغیر ادھوری ہو”، "تم میری زندگی ہو” جیسے جملے عورت کے لیے صرف الفاظ نہیں ہوتے، وہ ان میں مستقبل دیکھتی ہے۔ بہت سے مردوں کے لیے یہ محض شکار کی تکنیک ہوتی ہے۔ عورت کو محبت کے نام پر ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ جب تک دل چاہا، تعلق رکھا، جذبات لیے، جسم استعمال کیا، وقت گزارا پھر ایک دن خاموشی سے الگ ہو گئے۔ عورت پیچھے رہ جاتی ہے، اپنے وجود کے ٹکڑوں کو سمیٹتی ہوئی۔
المیہ یہ ہے کہ یہی معاشرہ بعد میں عورت کو ہی قصوروار ٹھہراتا ہے۔ اگر عورت دھوکا کھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ وہ محبت کی بھوکی تھی۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ دھوکا دینے والا کون تھا؟ جھوٹے خواب دکھانے والا کون تھا؟ ہوس کو محبت کا نام دینے والا کون تھا؟ مرد کی خواہشات کو اکثر "فطرت” کہہ کر معاف کر دیا جاتا ہے جبکہ عورت کے جذبات کو "کمزوری” بنا دیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عورت نے کب محب ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟ عورت تو زیادہ تر تحفظ، عزت، اعتبار اور قبولیت چاہتی ہے۔ وہ ایک ایسا رشتہ چاہتی ہے جہاں اسے انسان سمجھا جائے، محض جسم نہیں۔ افسوس دنیا عورت کی محبت کو بھی جسم کے زاویے سے دیکھتی ہے۔ اگر عورت کسی سے محبت کرے تو فوراً اس کے کردار پر سوال اٹھا دیے جاتے ہیں۔ اگر وہ محبت سے انکار کرے تو مغرور کہلاتی ہے۔ اگر خاموش رہے تو اسے کمزور سمجھا جاتا ہے۔ عورت ہر حال میں کٹہرے میں کھڑی رہتی ہے۔
اکیسویں صدی کی عورت بدل رہی ہے۔ اب وہ محبت کو صرف جذباتی سہارا نہیں سمجھتی۔ وہ جان چکی ہے کہ محبت اگر عزت، اعتماد اور برابری سے خالی ہو تو وہ محض استحصال ہے۔ آج کی عورت تعلیم یافتہ ہے اور معاشی طور پر خود مختار ہو رہی ہے۔وہ اپنے فیصلے خود لینا چاہتی ہے۔ عہد حاضر کی عورت اب محبت کے نام پر خود کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ جان گئی ہے کہ محبت اگر انسان کی آزادی چھین لے، اس کی خودی کو کچل دے، اس کی شخصیت کو ختم کر دے تو وہ محبت نہیں، قید ہے۔
اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ محبت انسانی ضرورت ہے۔ صرف عورت نہیں، مرد بھی محبت چاہتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ کوئی اسے سمجھے، قبول کرے، اس کے دکھ میں شریک ہو۔ مسئلہ محبت نہیں، مسئلہ محبت کے نام پر ہونے والا دھوکا ہے۔ محبت جب خلوص سے خالی ہو تو فریب بن جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر محبت کو ذمہ داری کی بجائے جزوقتی لطف سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے تعلقات کمزور ہو رہے ہیں اور اعتماد ٹوٹ رہا ہے۔
عورت کو محبت کی بھوکی کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ عورت صدیوں سے محبت دیتی آئی ہے۔ ماں کی صورت میں، بہن کی صورت میں، بیوی کی صورت میں، بیٹی کی صورت میں۔ اس نے اپنے حصے کی خوشیاں قربان کیں، رشتوں کو سنبھالا، گھر کو جوڑا، دکھ سہے، مگر بدلے میں اکثر اسے شک، بے وفائی، تشدد اور تنہائی ملی۔ اگر عورت واقعی محبت چاہتی ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟ محبت تو انسان کا بنیادی جذبہ ہے۔ عورت کی محبت کو ہمیشہ کمزوری کیوں سمجھا گیا؟
شاید اس لیے کہ محبت کرنے والی عورت کو کنٹرول کرنا آسان سمجھا جاتا ہے۔ مرد جانتا ہے کہ اگر عورت جذباتی طور پر وابستہ ہو جائے تو وہ بہت کچھ برداشت کر لے گی۔ یہی وجہ ہے کہ محبت کے نام پر عورت کو خاموش رہنے، صبر کرنے اور قربانی دینے کا درس دیا جاتا ہے۔ آج کی عورت ویسی نہیں رہی اب وہ سوال کر رہی ہے۔ وہ پوچھ رہی ہے کہ صرف عورت ہی کیوں قربانی دے؟ صرف عورت ہی کیوں وفاداری ثابت کرے؟ صرف عورت ہی کیوں محبت کا امتحان دے؟
اکیسویں صدی کی عورت محبت سے انکار نہیں کرتی، اب محبت کی تعریف بدل رہی ہے۔ وہ ایسی محبت چاہتی ہے جہاں اس کی شناخت باقی رہے۔ جہاں اسے برابر سمجھا جائے۔ جہاں اس کے خواب بھی اہم ہوں، جہاں اس کے جسم سے زیادہ اس کی روح کو دیکھا جائے۔ وہ محبت کو عبادت بنانا چاہتی ہے، کاروبار نہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ ہر مرد ظالم نہیں اور ہر عورت مظلوم نہیں۔ دنیا میں سچے تعلقات بھی موجود ہیں، خالص محبت بھی ذندہ ہے۔ دراصل مسئلہ اُس سماجی ذہنیت کا ہے جو عورت کو جذباتی ضرورت بنا کر پیش کرتی ہے اور مرد کو اختیار کا مرکز ٹھہراتی ہے۔ جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی،تب تک محبت کے نام پر استحصال جاری رہے گا۔
عورت محبت کی بھوکی نہیں، عزت کی بھوکی ہے اور قبولیت کی بھوکی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے انسان سمجھا جائے، احساسات رکھنے والا جیتا جاگتا وجود تسلیم کیا جائے۔ اگر محبت اسے یہ سب دے تو وہ محبت خوبصورت ہے۔ اگر محبت عورت کو صرف استعمال کرنے، توڑنے اور خاموش کرنے کا ذریعہ بن جائے تو پھر وہ محبت نہیں، ایک سماجی دھوکا ہے جسے صدیوں سے "رومان” کا نام دے کر بیچا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ نورین