تیسری ہندکو کانفرنس

تحریر : سہیل احمد صمیم

بہت کم تعلیمی ادارے ایسے ہوتے ہیں جو معیاری تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو اپنی تہذیب و ثقافت، زبان اور شناخت سے جوڑنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ بلاشبہ ایسے ادارے معاشروں میں محض ڈگریاں نہیں بانٹتے بلکہ تہذیب و ثقافت کو ایک فکری سوچ کے تحت پروان چڑھاتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ جناح بیسک سکول اینڈ کالجز مانسہرہ نے معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ ہزارہ کی مادری زبان ہندکو کے تحفظ اور ترویج کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے ایک ایسی علمی روایت کی بنیاد رکھی ہے جو اب باقاعدہ تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر جناح بیسک سکول اینڈ کالجز مانسہرہ اور ہندکو وال بیٹھک ہزارہ کے باہمی اشتراک سے فاریض آڈیٹوریم، جناح کالجز مانسہرہ میں تیسری ہندکو کانفرنس کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی، جس کے روحِ رواں جناب فاریض صاحب، جناب فیاض صاحب اور ڈاکٹر عادل سعید تھے۔ یہ حضرات جس خلوص اور کھلے دل کے ساتھ ہندکو زبان کی ترویج و بقا کے لیے کوشاں ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہے یعنی نہ کسی صلے کی تمنا، نہ ستائش کی طلب۔
بس اپنی مادری زبان سے محبت اور اس کے تحفظ کا جذبہ۔ ان کے اسی لازوال جذبے کی بدولت انتہائی کم وقت میں بہت سے خواتین لکھاری بھی ہمارے سامنے آئی ہیں جو ہندکو زبان و ادب میں اپنا نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ میرے خیال میں ہندکو کانفرنس کے جتنے اور بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ان سب میں یہ پہلو اہم ہے کہ خواتین لکھاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جو بلا شبہ لائقِ تحسین ہے اور اس کے لئے جناب عادل صاحب ، جناب ، فیاض صاحب اور انکی پوری ٹیم بہت زیادہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ اب یہ کانفرنس (سالانہ) ایک ایسی کانفرنس بن چکی ہے کہ ہندکو سے محبت کرنے والے تمام لوگ بالخصوص ہزارہ کے شعرا ادیب اس کانفرنس کا بے تابی سے انتظار کرتے ہیں۔
تیسری ہندکو کانفرنس کا مرکزی موضوع "ہندکو زبان و ادب کی ڈیجیٹائزیشن: مسائل اور تجاویز” تھا۔ علمی نشست کے پہلے حصے میں اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقی مقالات پیش کیے گئے، جن سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ڈیجیٹل دور میں ہندکو کے حوالے سے نئے نئے مفاہیم اور جہتیں جنم لے رہی ہیں — زبان کو محض روایتی حدود میں نہیں بلکہ عصری تقاضوں کے مطابق بھی سمجھا اور برتا جا رہا ہے۔ اس سیشن کی صدارت تمغۂ حسنِ کارکردگی احمد حسین مجاہد نے کی۔
مہمانِ خصوصی کشمیر سے تشریف لانے والے ڈاکٹر شاہد حسین میر تھے۔ مہمانانِ اعزاز میں ڈاکٹر الطاف یوسف زئی (صدر شعبہ اردو، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ) اور شہید بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور کی ڈاکٹر صدف عنبرین شامل تھیں۔ سیشن کی تحریک مانسہرہ کی معروف ادبی، سماجی اور علمی شخصیت ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی نے پیش کی۔ نظامت کے فرائض تبسم چوہدری نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
کانفرنس کے دوسرے حصے میں معروف گلوکارہ آسیہ رحمان نے ہندکو کے مقبول اور دل آویز گیت پیش کیے، جنہیں حاضرین نے بے حد پسند کیا اور خوب داد دی۔
تیسرے اور آخری مرحلے میں ایک شاندار مشاعرہ منعقد ہوا، جس کی صدارت اعجاز نعمانی نے کی، جبکہ بشریٰ فرخ مہمانِ خصوصی اور تاج الدین تاج و محمد یامین مہمانانِ اعزاز تھے۔ نظامت احمد ریاض نے کی۔ ہزارہ بھر سے آئے ہوئے شعرائے کرام نے اپنی تخلیقات پیش کر کے محفل کو یادگار بنا دیا۔ اس موقع پر ایک خوش آئند پہلو یہ بھی نظر آیا کہ ہندکو ادب میں خواتین لکھاریاں بھی آگے بڑھ کر سامنے آ رہی ہیں، جو اس زبان کے مستقبل کے لیے نیک شگون ہے۔
تقریب کے اختتام پر مہمانانِ خصوصی اور دیگر معزز شخصیات کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں، جبکہ آخر میں تمام شرکاء کی پرتکلف ضیافت سے تواضع کی گئی۔
تیسری ہندکو کانفرنس اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ جب تعلیمی ادارے علم کے ساتھ تہذیبی ورثے کی پاسبانی کو بھی اپنا نصب العین بنا لیں، تو زبانیں زندہ رہتی ہیں، ثقافتیں مضبوط ہوتی ہیں، اور آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ جناح بیسک سکول اینڈ کالجز مانسہرہ اور ہندکو وال بیٹھک ہزارہ کی یہ کاوش ثابت کرتی ہے کہ خلوصِ نیت سے کی گئی چھوٹی سی کوشش بھی بڑی تحریک بن سکتی ہے۔آخر میں ،میں ایک بار پھر جناب فاریض صاحب، جناب فیاض صاحب اور ڈاکٹر عادل سعید جناح بیسک سکول اینڈ کالجز، مانسہرہ اور ہندکو وال بیٹھک تیسری ہندکو کانفرنس کامیابی کی مبارکباد دیتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ یہ سلسلہ پھلتا پھولتا رہے اور ہر بری نظر سے محفوظ رہے آمین

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم (اردو اور ہندکو شاعر/ادیب)۔ تعلیمی قابلیت: بی بی اے آنرز (ایچ آر ایم)، ایل ایل بی اور ایم اے اردو گولڈ میڈلسٹ۔ شائع شدہ کتاب کا نام: اِلی النُور (نعتیہ شاعری)۔ زیرِ طبع کتب۔ 1. لایزال (دوسرا نعتیہ مجموعہ )۔ 2. خواب کہاں جاتی ہیں (اردو شعری مجموعہ ) 3. ہزار میں فارسی زبان و ادب کی روایت (تحقیق) دیگر حوالہ جات کالم نگاری : ادبی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین مختلف ادبی رسائل اور پلیٹ فارمز میں شائع ہو تے رہتے ہیں۔ آپڑی ہندکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بانی بھی ہیں جہاں ہندکو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔