تقابل

منزہ انور گوئندی کی ایک اردو نظم

کیسے جکڑو گے گرانبار سلاسل میں مجھے
کیسے مفلوج کرو گے میری آزادی کو

میں نے مانا کہ تیری زلفیں ہیں ناگن کی طرح
تیرے رخساروں پہ شعلے تیرے ہاتھوں پہ حنا
تیری محجوب نگاہوں میں کبھی مستی و کیف
تیری بے باک نگاہوں میں کبھی شرم و حیا
کبھی ہوتا ہے تیری چال پہ نغمے کا گماں
کبھی تو رقص میں ہوتی ہے مثال صہبا
بخش دیتی ہے بصد ناز کبھی سوز دوام
نذر نسیاں کبھی کر دیتی ہے سب مہر و وفا

میں نے مانا کہ یہ زنجیریں حسیں ہیں لیکن
ایسی زنجیروں سے کیا قید کرو گے مجھ کو
آتشیں سانسوں سے تخلیق ہوئی میری حیات
مضطرب ہارے سے صیقل ہوا جوہر میرا
مجھ کو بخشی گئی مدقوق ستاروں کی خلش
زرد شعلوں کی ضیا سرد نگاہوں کی جفا
سونپ دی جرات بے باک نے مجھ کو وحشت
میری نس نس کو بہیمانہ و رندانہ ادا
میرے انکار میں بپھری ہوئی ندیوں کا خروش
میری اقرار میں ٹوٹے ہوئے بربط کی نوا
کہو مفلوج کرو گے میری آزادی کو

منزہ انور گوئیُندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا