تمنائے وصل

معظمہ نقوی کی ایک اردو نظم

سرد ہوا کے جھونکے دل میں لینے آئیں جب انگڑائی
ابر کی شوخی جب آ جائے ارمانوں میں

لہرا کر جب پیڑ چمن میں
چاہت کی اک سرگم چھیڑیں

جب ساگر کی رقصاں بانہیں
مستی کے افسانے چھیڑیں

ایک انوکھی پیاس کا جب احساس دلائیں
جب سرگوشی کرنے آئے

چاند انوکھے ابر میں جاناں
پھولوں کی خوشبو جب اترے

تیرے میرے جسم کے اندر
تیری سانسیں میری سانس میں ڈھل جائیں

معظمہ نقوی

معظمہ نقوی

ڈیرہ غازی خان, پاکستان