ہارنا نہیں کوشش نہ کرنا جرم ہے

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی ایک اردو تحریر

کیا آپ کو سائیکل چلانی آتی ہے ۔ اگر آپ کو آتی ہے تو آپ نے دیکھا ہو گا ہر وہ انسان جس نے سائیکل چلائی وہ پہلے کئی بار گرا لیکن وہ بچہ جو سائیکل سیکھنے کے عمل میں بار بار گرتا ہے،اس کا نتیجہ یہ کہ وہ ایک وقت جھوم جھوم کر سائیکل چلاتا ہے اور ہاتھ فضا میں بلند کر کے دوسروں کو کہتا ہے یہ دیکھو میں کیا کر رہا ہوں ۔ مگر جو بچہ ہمت ہار جاتا ہے مارے خوف کے ایک طرف بیٹھ جاتا ہے وہ سائےیکل چلانا نہیں سیکھ پاتا ۔ یہی اصول زندگی کے ہر میدان میں کام کرتا ہے۔بار بار ارے اور بار بار کوشش کریں ۔ کوشش والے ہارتے نہیں اور نا کوشش کرنے والے کبھی جیتتے نہیں ۔
اچھا چلو ۔! آو آج میں آپ کو ایک مشہور تاریخی قصہ سناتا ہوں، یہ ایک ایسے شخص کا قصہ ہے جو اکیس سال کی عمر میں کاروبار میں ناکامی سے دوچار ہوا، اس نے بائیس سال کی عمر میں انتخابات میں شکست کھائی، چوبیس سال کی عمر میں دوبارہ کاروبار میں ناکامی سے دوچار ہوا، چھبیس سال کی عمر میں اس کی محبوبہ کا انتقال ہوگیا، ستائیس سال کی عمر میں وہ نروس بریک ڈائون کا شکار ہوگیا، چونتیس سال کی عمر میں کا نگریس کا انتخاب ہار گیا، انچاس سال کی عمر میں سینیٹ کا انتخاب ہار گیا، وہ باون سال کی عمر میں امریکا کا صدر منتخب ہوا، وہ شخص ابراہام لنکن تھا۔
پیرو نے کہا ”اکثر لوگ اس وقت کوشش ترک کردیتے ہیں جب کامیابی کا حصول نزدیک تر ہوتا ہے، وہ دوڑ کے آخری مرحلے میں اختتامی لکیر سے صرف ایک گز کی دوری پر مقابلے سے دست بردار ہوجاتے ہیں، وہ کھیل کے آخری منٹ میں میدان چھوڑ دیتے ہیں، جیت کی لکیر سے صرف ایک فٹ دور” کامیابی کسی عظیم مقصد کے مرحلہ وار حصول کا نام ہے۔” مرحلہ وار کا مطلب ہے کہ کامیابی ایک سفر ہے منزل نہیں، ہم کبھی منزل پر نہیں پہنچتے لیکن سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے جب ہم ایک ہدف کو حاصل کرلیتے ہیں تو اگلے کی طرف چل پڑتے ہیں اور پھر اس سے اگلے کی طرف۔ مقصد کا عظیم ہونا ضروری ہے، عظیم مقصد ہمارے نظام اقدار کا عکاس ہوتا ہے، مقصد اہم ہوتے ہیں کیونکہ وہ سمت کا احساس عطا کرتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مشہور ترین کامیاب لوگوں کو کامیابی سے پہلے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اس وجہ سے جیت جاتے ہیں کہ وہ اپنی ناکامیوں کے باوجود حوصلہ نہیں ہارتے” کامیابی کی تمام داستانیں ناکامی کی کہانیاں بھی ہیں۔یہ چھ اقوال امید کرتا ہوں آپ کو مدد کریں گے کہ آپ پریشان ہونا چھوڑ دیں اور اپنا سفر جاری رکھیں اپنی راہ میں آنے والے صحرا دریا پہاڑ میدان سبھی کو آپ نے عبور کرنا ہے ۔ کیسے بھی کرنا ہے تبھی منزل تک پہنچیں گے ۔
Albert Einstein نے کہا:آپ اس وقت تک ناکام نہیں ہوتے جب تک کوشش کرنا نہیں چھوڑ دیتے۔
Winston Churchill نے کہا:کامیابی آخری منزل نہیں اور ناکامی مہلک نہیں؛ اصل اہمیت آگے بڑھنے کے حوصلے کی ہے۔
Confucius نے کہا:ہماری سب سے بڑی عظمت کبھی نہ گرنے میں نہیں بلکہ ہر بار گر کر دوبارہ اٹھنے میں ہے۔
Confucius نے کہا:اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنی آہستگی سے چلتے ہیں، جب تک آپ رکتے نہیں۔
Harriet Beecher Stowe نے کہا:کبھی ہمت نہ ہارو، کیونکہ عین اسی مقام اور وقت پر حالات بدل سکتے ہیں۔
Confucius نے کہا:جو شخص پہاڑ ہٹانا چاہتا ہے وہ چھوٹے پتھر اٹھانے سے آغاز کرتا ہے۔
زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کسی جادو کا نام نہیں، بلکہ مسلسل کوشش، حوصلے اور دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی علامت ہے۔ انسان اکثر ناکامی سے ڈر کر رک جاتا ہے، حالانکہ اصل ناکامی رک جانا ہے، گر جانا نہیں۔حقیقی ناکامی صرف کوشش نہ کرنا ہے۔ زندگی میں ہار اس وقت نہیں ہوتی جب ہم ناکام ہوتے ہیں، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب ہم کوشش چھوڑ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم امتحان میں کم نمبر آنے پر مایوس ہو کر پڑھائی چھوڑ دے تو یہی اس کی اصل ناکامی ہے، لیکن اگر وہ دوبارہ محنت کرے تو وہی کمزوری اس کی طاقت بن سکتی ہے۔ ناکام ہونے سے نہ ڈرو، بلکہ کوشش نہ کرنے سے ڈرو ۔ہمیں حوصلہ دیتی ہے کہ غلطی کرنا انسانیت ہے، مگر کوشش نہ کرنا کمزوری ہے۔ ایک کسان اگر بارش نہ ہونے پر ہار مان لے تو وہ کبھی فصل حاصل نہیں کر سکتا، لیکن اگر وہ متبادل طریقے اپناتا رہے تو ایک دن ضرور کامیاب ہوتا ہے۔ فاتح دراصل وہ ہارا ہوا شخص ہے جس نے ایک بار اور کوشش کی۔ یعنی کامیابی ان لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو گرنے کے بعد دوبارہ کھڑے ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ جو شخص ہر ناکامی کو سبق بنا کر آگے بڑھتا ہے، وہی اصل میں کامیاب کہلاتا ہے۔ کیونکہ کامیابی راستہ بدلنے سے نہیں، بلکہ مسلسل چلتے رہنے سے ملتی ہے۔کوشش کی ابتدائی صورت دراصل وہ پہلا چھوٹا مگر فیصلہ کن قدم ہے جس سے انسان اپنے بڑے مقصد کی طرف سفر شروع کرتا ہے، اس کا آغاز واضح نیت اور مقصد کے تعین سے ہوتا ہے تاکہ انسان کی سوچ بکھرنے کے بجائے ایک سمت میں مرکوز رہے، پھر چھوٹے اور قابلِ عمل قدموں سے آغاز ضروری ہے کیونکہ بڑی کامیابیاں ہمیشہ چھوٹے مراحل سے جنم لیتی ہیں، اسی طرح روزانہ کا معمول بنانے سے کوشش عادت میں ڈھل جاتی ہے اور انسان مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان خوف کے باوجود عمل کرے اور “مکمل تیاری” کے انتظار میں وقت ضائع نہ کرے کیونکہ تیاری دراصل عمل سے پیدا ہوتی ہے، مزید یہ کہ آغاز میں غلطی کو فطری سمجھ کر قبول کرنا چاہیے کیونکہ ہر غلطی سیکھنے کا ذریعہ بنتی ہے، اور آخر میں کسی بھی خیال کو فوراً عملی شکل دینا آغاز کی سب سے مضبوط صورت ہے، یوں واضح نیت، چھوٹے قدم، مستقل معمول، خوف کے باوجود عمل، غلطی کی قبولیت اور فوری اقدام مل کر انسان کو کامیابی کی طرف رواں دواں کر دیتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

میرا نام ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم ہے۔ میں ایک معلم، محقق، کالم نگار اور مصنف ہوں۔ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے شعبۂ تدریس سے وابستہ ہوں اور 2006ء سے باقاعدگی کے ساتھ مختلف سماجی، تعلیمی، اخلاقی، ادبی، فکری اور عوامی موضوعات پر لکھ رہا ہوں۔الحمدللہ اب تک میری چالیس سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں، جبکہ میرے مضامین اور کالم مختلف اخبارات، رسائل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ میں اس وقت بھی معاشرے سے متعلق اہم اور عصری موضوعات پر مسلسل قلمی خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں پی ایچ ڈی کا اسکالر بھی ہوں، اور میری کوشش رہتی ہے کہ میری تحریروں میں تحقیق، اعتدال، سادگی اور عوامی افادیت کا امتزاج ہو۔ پنجاب کالج راولپنڈی میں لیکچرر ہوں ،الحمد للہ میرے طلبا اور قارئین کی ایک بڑی تعداد میرے سوشل میڈیا اکاونٹس پر مجھے پڑھتے ہیں ۔