پہلے آپ اپنی قدر پہچانیے

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی ایک اردو تحریر

"Go where you are celebrated, not merely tolerated.”
ایک بوڑھے باپ نے اپنے بیٹے کو بلایا اور ایک پرانی، خستہ حال گھڑی اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا:
"بیٹا! یہ گھڑی تمہارے پردادا کی نشانی ہے۔ اس کی عمر تقریباً دو سو سال ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ امانت تمہیں دے دوں، لیکن اس سے پہلے تم میرا ایک کام کرو۔”
پھر اس نے کہا:”اس گھڑی کو شہر کی کسی گھڑیوں کی دکان پر لے جاؤ اور صرف یہ پوچھ کر آؤ کہ اگر وہ اسے خریدیں تو کتنی قیمت دیں گے۔”
بیٹا گھڑی لے کر گیا اور کچھ دیر بعد واپس آکر بولا:
"ابا جان! دکان دار نے گھڑی کو غور سے دیکھا، پھر کہا کہ یہ بہت پرانی اور خستہ حالت میں ہے، اس لیے وہ اس کے صرف پانچ درہم دے سکتا ہے۔”
بوڑھا مسکرایا اور بولا:
"اچھا، اب اسے ایسی جگہ لے جاؤ جہاں قدیم نوادرات خریدے اور فروخت کیے جاتے ہیں، اور وہاں بھی صرف اس کی قیمت معلوم کرنا۔”
بیٹا وہاں گیا اور واپس آکر خوشی سے بولا:
"ابا جان! حیرت کی بات ہے، وہاں موجود ماہرین اس گھڑی کے پانچ ہزار درہم دینے پر آمادہ ہیں۔”
بوڑھے نے اطمینان سے سر ہلایا اور کہا:
"اب ایک آخری کام کرو۔ اسے عجائب گھر لے جاؤ اور وہاں بھی اس کی قیمت معلوم کرکے آؤ۔”
بیٹا عجائب گھر پہنچا۔ ماہرین نے گھڑی کا باریک بینی سے معائنہ کیا، اس کی تاریخ، ساخت اور نایابی کو پرکھا، پھر کہا:
"اگر آپ اسے فروخت کرنا چاہیں تو ہم اس کے پچاس ہزار درہم ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔”
یہ سن کر بیٹا حیران رہ گیا۔ واپس آکر اس نے ساری بات اپنے والد کو بتائی۔
بوڑھے باپ نے محبت سے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
"بیٹا! میں تمہیں گھڑی کی قیمت نہیں بتانا چاہتا تھا، بلکہ تمہاری اپنی قیمت سمجھانا چاہتا تھا۔”
پھر اس نے کہا:
"یاد رکھنا! اپنی ذات کو کبھی ایسی جگہ ضائع مت کرنا جہاں تمہاری قدر نہ ہو۔ کسی چیز کی اصل قیمت وہی جان سکتا ہے جس میں اسے پرکھنے کی صلاحیت ہو۔ جو لوگ تمہاری صلاحیت، کردار اور خوبیوں کی قدر نہیں کرتے، ان کے فیصلوں سے اپنی اہمیت کا اندازہ مت لگانا۔”
حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی بہترین صلاحیتیں ایسی جگہ صرف کر دیتے ہیں جہاں انہیں نہ عزت ملتی ہے، نہ مواقع، نہ حوصلہ افزائی۔ وہ اپنی توانائیاں ان لوگوں کو منانے میں لگا دیتے ہیں جو انہیں سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔اسی طرح انسان کو ہر وقت اپنی اہمیت ثابت کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصل قدر وہی پہچانتے ہیں جن کی نگاہ میں شعور، بصیرت اور انصاف ہوتا ہے۔میرے ایک محترم استاد اکثر فرمایا کرتے تھے:
"اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں کو صحیح سمت میں استعمال کرو۔ خود کو ایسی جگہ مت تھکاؤ جہاں بدلے میں سوائے مایوسی، تھکن اور بے قدری کے کچھ حاصل نہ ہو۔”ہر انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، اس لیے ہر انسان اپنی ذات میں قیمتی ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر جگہ انسان کی قدر نہیں ہوتی، کیونکہ ہر شخص قیمتی چیز کی پہچان نہیں رکھتا۔اگر کہیں آپ کے علم، کردار، محنت، اخلاص اور محبت کی قدر نہیں کی جا رہی تو فوراً یہ نتیجہ نہ نکالیے کہ آپ بے قیمت ہیں۔ ممکن ہے مسئلہ آپ کی قدر میں نہیں، بلکہ پرکھنے والوں کی نگاہ میں ہو۔
"Your value doesn’t decrease based on someone’s inability to see your worth.”
"تمہاری قدر اس وجہ سے کم نہیں ہو جاتی کہ کوئی دوسرا اسے پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔”اپنے خوبصورت جذبات، اپنی محبت، اپنی وفاداری اور اپنی صلاحیتیں ان لوگوں پر ضائع نہ کیجیے جو ان کی اہمیت ہی نہیں سمجھتے۔ خلوص ایک قیمتی سرمایہ ہے؛ اسے وہاں خرچ کیجیے جہاں اس کی عزت ہو، جہاں آپ کی موجودگی باعثِ خوشی سمجھی جائے، اور جہاں آپ کو دل سے قبول کیا جائے۔یاد رکھیے! جسے آپ کی قدر ہوگی، وہ آپ کے چھوٹے سے احسان کو بھی بڑی نعمت سمجھے گا، اور جسے آپ کی قدر نہیں ہوگی، وہ آپ کی بڑی سے بڑی قربانی کو بھی معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دے گا۔
"Know your worth. Then add tax.”
اس کا مطلب غرور نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اپنی عزتِ نفس، اپنی صلاحیتوں اور اپنے وقت کی قیمت پہچانیے۔اپنے آپ کو ایسے ماحول اور ایسے لوگوں سے وابستہ کیجیے جو آپ کی شخصیت کو نکھاریں، آپ کے حوصلے بلند کریں، آپ کی کامیابی پر خوش ہوں اور آپ کی اصلاح بھی خیرخواہی سے کریں۔ ایسے لوگ آپ کی زندگی کا سرمایہ ہوتے ہیں۔جو لوگ ہمیشہ آپ کی تحقیر کریں، آپ کی نیت پر شک کریں، آپ کی خوبیوں کو نظر انداز کریں اور آپ کے خلوص سے فائدہ اٹھائیں، ان سے مناسب فاصلہ اختیار کرنا کمزوری نہیں بلکہ دانائی ہے۔
"Don’t let people who do so little for you control so much of your mind, feelings and emotions.”
سب سے بڑھ کر اپنے رب پر بھروسہ رکھیے۔ اگر کوئی شخص آپ کی امیدوں پر پورا نہیں اترا، اگر کسی نے آپ کی قدر نہیں کی، یا اگر کسی جگہ آپ کو وہ مقام نہیں ملا جس کے آپ حق دار تھے، تو مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے، اور اس کی تدبیر انسان کی سوچ سے کہیں زیادہ کامل ہے۔
وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اندھیرے کنویں سے نکال کر مصر کے تخت تک پہنچا دیتا ہے۔ وہ بند دروازوں کے بعد ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس لیے لوگوں کے فیصلوں سے زیادہ اپنے رب کے فیصلوں پر اعتماد رکھیے۔
"Trust God’s timing. It’s always perfect.”
اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کیجیے، اپنے کردار کو سنواریے، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریے اور اپنی توانائیاں وہاں صرف کیجیے جہاں آپ کے علم، محنت، اخلاص اور محبت کی قدر کی جائے۔یاد رکھیے!آپ کی اصل قیمت لوگوں کی رائے سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ آپ کے کردار، آپ کے عمل اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کے مقام سے ہوتی ہے۔اس لیے خود سے محبت کیجیے، اپنی قدر پہچانیے، اپنے رب پر بھروسہ رکھیے اور زندگی میں آگے بڑھتے رہیے۔ یقین جانیے، جب آپ صحیح جگہ پہنچیں گے تو آپ کو اپنی قدر ثابت نہیں کرنی پڑے گی، بلکہ آپ کا کردار خود آپ کا تعارف بن جائے گا۔

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

میرا نام ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم ہے۔ میں ایک معلم، محقق، کالم نگار اور مصنف ہوں۔ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے شعبۂ تدریس سے وابستہ ہوں اور 2006ء سے باقاعدگی کے ساتھ مختلف سماجی، تعلیمی، اخلاقی، ادبی، فکری اور عوامی موضوعات پر لکھ رہا ہوں۔الحمدللہ اب تک میری چالیس سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں، جبکہ میرے مضامین اور کالم مختلف اخبارات، رسائل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ میں اس وقت بھی معاشرے سے متعلق اہم اور عصری موضوعات پر مسلسل قلمی خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں پی ایچ ڈی کا اسکالر بھی ہوں، اور میری کوشش رہتی ہے کہ میری تحریروں میں تحقیق، اعتدال، سادگی اور عوامی افادیت کا امتزاج ہو۔ پنجاب کالج راولپنڈی میں لیکچرر ہوں ،الحمد للہ میرے طلبا اور قارئین کی ایک بڑی تعداد میرے سوشل میڈیا اکاونٹس پر مجھے پڑھتے ہیں ۔