پہلا قدم ہی پہلا انعام ہے

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی ایک اردو تحریر

“Don’t watch the clock; do what it does — keep going.
ایک بادشاہ کو دو باز تحفے میں ملے۔اس نے اتنے خوبصورت پرندے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ بادشاہ نے دونوں پرندے اپنے ملازم کو دیے تاکہ وہ ان کی تربیت کرے۔ کچھ دنوں بعد ملازم نے بادشاہ کو اطلاع دی کہ ایک باز تو بہت خوب اُڑتا ہے، لیکن دوسرا جس دن سے آیا ہے، اپنی شاخ سے ہلتا تک نہیں۔بادشاہ نے مملکت کے تمام معالجوں اور جادوگروں کو طلب کیا، مگر کوئی بھی اس باز کو اُڑانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ معاملہ طول پکڑ گیا۔ بادشاہ نے اپنے مشیروں کے سامنے یہ مسئلہ رکھا، لیکن گھنٹے دنوں اور دن مہینوں میں بدل گئے، پھر بھی باز اپنی شاخ پر بیٹھا رہا۔
آخرکار بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ کسی ایسے شخص کو بلایا جائے جو فطرت اور قدرت سے گہری دلچسپی رکھتا ہو۔ حکم ہوا کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جائے جس نے برسوں جنگلوں میں وقت گزارا ہو اور پرندوں کے مزاج سے واقف ہو۔اگلے ہی دن بادشاہ نے حیرت سے دیکھا کہ وہ باز محل کے باغوں میں بلند پرواز کر رہا ہے۔ بادشاہ نے فوراً اس شخص کو طلب کیا جس نے باز کو اڑایا تھا۔ جب وہ شخص بادشاہ کے سامنے آیا تو بادشاہ نے پوچھا، "بتاؤ! تم نے ایسا کیا کیا کہ باز اڑ گیا؟”
وہ مسکرا کر بولا: "میں نے وہ شاخ کاٹ دی جس پر باز بیٹھا تھا۔”
یہ سن کر بادشاہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آگے بڑھنے کے مواقع زندگی میں بہت ہیں، مگر ہم خود اپنی سہولتوں کی شاخوں سے چمٹے رہتے ہیں۔ نئی آزمائشیں اور نئے تجربے ہی انسان کو آگے بڑھنے کی قوت دیتے ہیں۔ جو ان سے ڈرتا ہے، وہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔آزمائشوں کا مقابلہ کرنا ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے، کیونکہ زندگی رکنے والوں کے لیے نہیں، چلنے والوں کے لیے ہے۔ جو شخص اپنی آرام دہ شاخ سے چمٹا رہتا ہے، وہ کبھی آسمان کو نہیں چھو سکتا۔ اللہ نے ہر انسان کے اندر ایک اڑان رکھی ہے، مگر اس اڑان کے لیے پہلا قدم ضروری ہے۔یاد رکھیں، ہزار میل کا سفر بھی اُس پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے جو انسان ہمت کے ساتھ اٹھاتا ہے۔ خوف، شک، اور آرام پسندی وہ زنجیریں ہیں جو ہماری پرواز کو روکتی ہیں۔ جب ہم ان زنجیروں کو توڑ دیتے ہیں، تب زندگی اپنی اصل وسعتوں کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے۔جہاز بندرگاہ میں ضرور محفوظ رہتے ہیں، مگر انہیں سمندروں کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسی طرح انسان بھی رُکنے کے لیے نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ آزمائشیں وہ ہوا ہیں جو تمہاری پرواز کو بلند کرتی ہیں۔لہٰذا ڈرنے کے بجائے اُٹھو، پہلا قدم بڑھاؤ کیونکہ وہی قدم تمہاری تقدیر بدلنے والا ہوتا ہے۔حرکت میں برکت ہے، رُکنے میں زوال۔جو چل پڑا، وہ جیت گیا۔

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

میرا نام ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم ہے۔ میں ایک معلم، محقق، کالم نگار اور مصنف ہوں۔ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے شعبۂ تدریس سے وابستہ ہوں اور 2006ء سے باقاعدگی کے ساتھ مختلف سماجی، تعلیمی، اخلاقی، ادبی، فکری اور عوامی موضوعات پر لکھ رہا ہوں۔الحمدللہ اب تک میری چالیس سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں، جبکہ میرے مضامین اور کالم مختلف اخبارات، رسائل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ میں اس وقت بھی معاشرے سے متعلق اہم اور عصری موضوعات پر مسلسل قلمی خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں پی ایچ ڈی کا اسکالر بھی ہوں، اور میری کوشش رہتی ہے کہ میری تحریروں میں تحقیق، اعتدال، سادگی اور عوامی افادیت کا امتزاج ہو۔ پنجاب کالج راولپنڈی میں لیکچرر ہوں ،الحمد للہ میرے طلبا اور قارئین کی ایک بڑی تعداد میرے سوشل میڈیا اکاونٹس پر مجھے پڑھتے ہیں ۔