تبصرہ تھا مرے فسانے پر تان ٹوٹی شراب خانے پر
جتنی باتیں قفس میں چھڑتی ہیں ختم ہوتی ہیں آشیانے پر
زندگی بن کے اک نگاہ بسیط جا پڑی تیرے آستانے پر
اے زمانے سے کھیلنے والو اور الزام اک زمانے پر
زندگانی کا سب مزہ باقیؔ منحصر ہے فریب کھانے پر
باقی صدیقی
وصال عباسی کی ایک اردو غزل
روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل
میر حسن کی ایک اردو غزل
حسنین رافی کی ایک اردو غزل