تبصرہ تھا مرے فسانے پر تان ٹوٹی شراب خانے پر
جتنی باتیں قفس میں چھڑتی ہیں ختم ہوتی ہیں آشیانے پر
زندگی بن کے اک نگاہ بسیط جا پڑی تیرے آستانے پر
اے زمانے سے کھیلنے والو اور الزام اک زمانے پر
زندگانی کا سب مزہ باقیؔ منحصر ہے فریب کھانے پر
باقی صدیقی
ایک اردو غزل از رشید حسرت
بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل
روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل