سیاست نہیں ریاست بچاؤ

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں معمولی سی لغزش آنے والے برسوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ ہم نے اپنی تاریخ میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ کبھی سیاسی بحران، کبھی آئینی تنازعات اور کبھی طاقت کی کشمکش لیکن آج جو کیفیت ہے وہ محض سیاست کا تماشا نہیں بلکہ ریاست کی رگوں میں اترتا ہوا زہر ہے۔ یہ زہر اختلاف رائے نہیں بلکہ نفرت، انتشار اور بداعتمادی کی وہ صورت ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

ریاست کا تقدس ایک ایسی حقیقت ہے جو قانونی کتابوں یا نصابی سبق تک محدود نہیں۔ یہ اس ماں کی طرح ہے جو اپنے بچوں کو اپنے دامن میں سمیٹے رکھتی ہے۔ یہ اس سائے کی طرح ہے جو دھوپ کی شدت میں پناہ دیتا ہے۔ بازاروں میں کام کرنے والا مزدور، موٹر سائیکل پر دو میل سفر کرنے والا استاد، کھیتوں میں کام کرنے والا کسان، ان سب کے لیے ریاست ایک ضرورت ہے. اگر یہ چھت گر جائے تو کوئی اپنے گھر کا مالک نہیں رہتا۔ اسی لیے ریاست کے وجود پر حملہ کسی فرد یا ادارے پر حملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیادیں ہلانے کی کوشش ہوتی ہے۔

لیکن افسوس کہ آج سیاست دانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنی ترجیحات بدل چکا ہے۔ اقتدار کا کھیل اتنا شدید ہو گیا ہے کہ اصول، اخلاق، ریاستی وقار حتی کہ قومی سلامتی تک پس منظر میں چلی گئی ہے۔ چائے کے کھوکھوں پر بیٹھے عام لوگ جب سیاست پر بات کرتے ہیں تو وہ حیرت سے کہتے ہیں کہ یہ لڑائی اب اقتدار کی نہیں رہی بلکہ ایک ضد بن گئی ہے۔ ایک ایسی ضد جس میں دلیل کم اور انا زیادہ نظر آتی ہے۔ چند برس پہلے تک سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کرتی تھیں لیکن اب معاملہ اداروں تک آ پہنچا ہے۔ سیاسی دشمنی نے ریاستی اداروں کو بھی تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست دانوں کی موقع پرستی خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے۔

پچھلے کچھ برسوں میں ایک مخصوص سیاسی فکر نے ریاست اور اداروں کے خلاف ایسا بیانیہ تراشا ہے جو صرف سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ انتشار پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ جلسوں میں بولے گئے جملے، سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ویڈیوز، بیرون ملک کی محفلوں میں دیے گئے بیانات، سب ایک ایسی فضا پیدا کر رہے ہیں جس میں نوجوان نسل ریاست سے بداعتمادی سیکھ رہی ہے۔ گاؤں کے ایک نوجوان نے حال ہی میں کہا کہ میں اب کسی ادارے پر یقین نہیں रखتا۔ یہ جملہ ایک عام آدمی کی زبان سے نکل کر ریاستی درد بن جاتا ہے کیونکہ یہ سوچ خود نہیں بنتی، اسے بنایا جاتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے فوج ایک دفاعی دیوار ہے۔ یہ کوئی رسمی تعریف نہیں بلکہ ہماری تاریخ کی وہ حقیقت ہے جس میں ہزاروں شہادتیں شامل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں جب شہروں پر دھماکے ہوتے تھے تو یہی فوج اور ریاستی ادارے تھے جو اس آگ کے سامنے ڈٹے رہے۔ لیکن آج اسی فوج کے خلاف بداعتمادی پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ بداعتمادی کسی معصوم اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا ہے جو ہمارے دشمنوں کے مفاد میں جاتا ہے۔ دشمن ہمیشہ متحد قوم سے ڈرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ قوم کے اندر اختلاف بڑھتا رہے اور ریاست کمزور ہوتی جائے۔

بیرون ملک بیٹھے کچھ عناصر اس پروپیگنڈے میں اضافی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر پاکستان کی ہر غلطی کو بڑھا کر دکھاتے ہیں اور ہر اچھائی کو چھپا دیتے ہیں۔ وہ باہر بیٹھ کر ملک کی تصویر اس طرح بناتے ہیں جیسے یہاں صرف انتشار ہو اور کوئی امید باقی نہ رہی ہو۔ یہ رویہ صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ اس مٹی سے بے وفائی ہے جس نے انہیں پہچان دی۔ یورپ اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے کئی پاکستانی جب ان پروپیگنڈا ویڈیوز کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ حقیقت اس طرح نہیں جیسی دکھائی جا رہی ہے۔ یہ وہ خاکی آواز ہے جو ثابت کرتی ہے کہ بیرون ملک بیٹھے چند لوگ پوری قوم کی نمائندگی نہیں کرتے۔

ملک کے موجودہ حالات بھی اس ماحول کو تقویت دے رہے ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کو شدید پریشان کر رکھا ہے۔ بے روزگاری نوجوانوں میں بے چینی بڑھا رہی ہے۔ سیاسی انتشار نے لوگوں کو ذہنی تھکن کا شکار کر دیا ہے۔ ایسے میں جب کوئی شخص ریاست کے خلاف زہر اگلتا ہے تو وہ زہر بہت تیزی سے پھیلتا ہے کیونکہ ذہن پہلے ہی مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جھوٹ اور سچ کی تمیز مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ عام شہری کبھی سوشل میڈیا کی ایک ویڈیو دیکھ کر ریاست کے خلاف ہو جاتی ہے اور کبھی ایک تقریر سن کر سب کچھ بدل جاتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں دشمن سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں ریاست کو کیا کرنا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ سماجی استحکام کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ غلط اطلاعات، نفرت انگیز بیانات، اداروں کے خلاف جھوٹ اور بیرونی پروپیگنڈے کا راستہ روکنے کے لیے قانونی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ریاست کو اپنی رٹ دکھانی ہوگی تاکہ ہر فرد کو یقین ہو کہ ادارے کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہیں۔ جب ریاست مضبوط ہوتی ہے تو پروپیگنڈا خود ہی اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔

قوم کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ سیاست اہم ہے، انتخاب ضروری ہے اور اختلاف بھی فطری لیکن یہ سب کچھ ریاست کے بعد آتا ہے۔ ریاست ٹوٹ جائے تو سیاست بھی ختم ہو جاتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ سیاسی اختلاف کے باوجود ریاست کے معاملے میں ایک ہوتی ہیں۔ ہمیں بھی اسی سمت بڑھنا ہوگا۔ اپنے گھروں، سکولوں، کھیتوں، بازاروں اور سوشل میڈیا کی گفتگو میں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ وطن ہماری مشترکہ امانت ہے۔ اسے ہم نے ہی بچانا ہے، اسی میں ہمارا مستقبل ہے۔

پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن یہ کوئی پہلی بار نہیں۔ اس ملک نے ہمیشہ مشکلات کا مقابلہ کیا ہے۔ آج بھی اگر قوم متحد ہو جائے، جھوٹ کو پہچان لے، ریاست کو مقدم رکھے اور سیاست کو حدود میں رکھے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ ریاست کو بچانا سیاست سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ ریاست ہی وہ بنیاد ہے جس پر ہمارا آج بھی کھڑا ہے اور مستقبل بھی اسی پر تعمیر ہوگا۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔