کیا بات ہے کتنی عجیب بات ہے۔ کہ ہم اللہ کا شکر تب ادا کرتے ہیں۔ جب ہمیں کسی چیز کی طلب ہوتی ہے۔ یہاں ہم پر کوئی آزمائش ہوتی ہے ۔تب ہم پھر ادھر اتے ہیں۔ روتے ہیں اللہ تعالی سے اس چیز کی طلب کی دعا کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالی اپنی اس محبت میں ہمیں وہ چیز عطا کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالی بہت خوبصورت رحیم ہے۔ وہ اپنے بندے سے بہت محبت کرتا ہے ۔70 ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا رب ہماری طرف دیکھ کر ہمیں چیز عطا کر دیتا ہے۔ لیکن انسان کا اصل امتحان اس کی دعا پوری ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کیا وہ ۔شک کو ادا کرتا رہتا ہے اس شکر کو اگے لے کر اگے بڑھتا ہے یہاں ایک نئی طلب ایک نئی چیز کے لیے پھر سے اللہ سبحانہ و تعالی کے اگے ایک نئی فریاد ڈال دیتا ہے۔ اللہ تعالی کا شکر ہر حال میں ادا کرتے رہنا چاہیے ۔چاہے مشکل ہو ازمائش ہو یا اپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو یہ اللہ تعالی کی محبت کا سب سے پہلا جز ہے ۔کہ اپ اس کی ہر چیز پر شکر ادا کرتے رہیں چاہے وہ اپ کو کوئی بیماری ہی کیوں نہ ہو یا کسی چیز کی محرومیت ہی نہ ہو ۔ انسان بہت ناشکرا ہے ہم وقت زیادہ کی طلب میں رہتا ہے۔ اللہ تعالی سے ہر وقت نہیں ا رہی اسائشہ دنیاوی چیزوں کی دعا مت کرتے رہا کریں۔ اللہ تعالی سے اللہ تعالی کی محبت کی دعا بھی کرتا ھے ۔ عطا تو ہونا ہے ۔اور بہت بہترین ہے۔ اللہ تعالی جب عطا کرنے پر اتا ہے تو اپنے بندے کی عبادت اور اس کی سوچ سے کئی گنا زیادہ عطا کرتا ہے۔ اللہ سے اللہ کی محبت عافیت رحمت ہی مانگا کریں دنیاوی چیزیں صرف اس دنیا تک رہیں گی۔ مگر اللہ تعالی سے اللہ تعالی کی محبت اور عافیت اپ کا قیامت تک ساتھ دے گی ۔اور قیامت کے بعد بھی اپ کے ساتھ رہے گی ۔اپنے اوپر ذکر کو لازم کر لیں۔ اللہ تعالی اپ کو ذکر کے ساتھ صبر دے گا ۔اور شکر ادا کرنے کہ اپ بہت عادی ہو جائیں گے شاید اپ ایک ایک سانس پر شکر ادا کرتے رہا کریں۔ کیونکہ اپ کا شکر اپ کے لیے باعث مغفرت بھی بن سکتا ہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں شکر گزار بندوں میں شامل کرے۔ تاکہ ہماری اخرت بھی بہترین گزرے اور ہماری دنیا بھی اچھی گزر جائے۔
آمین
از قلم صنم فاروق حسین