شہر کے دوسرے کنارے سے

تحریر : سہیل احمد صمیم

احمد حسین مجاہد کی کتاب، "شہر کے دوسرے کنارے سے”

ہوا جب شام کی گود میں سر رکھتی ہے تو کسی کا انتظار کرتی ہے، کسی ایسے شخص کا جو "محبت” کی پرانی دستاویزات لے کر، شہر دوسرے کنارے سے واپس آئے۔یہی دوسرا کنارا ہے، جہاں احمد حسین مجاہد اپنے شعروں کی چادر بچھا کر بیٹھے ہیں۔
وہ خامشی سے، اپنی سانسوں سے شاعری بنتے ہیں۔
ایسے اشعار جن میں لمس کی تتلیاں، دعا کی خشبو، اور زخموں کی چمک بسی ہوئی ہے۔ان کے ہاں عشق کوئی نعرہ نہیں، بلکہ ایسا لمس ہے جو پتوں پر بیٹھتا ہے اور صدیوں تک ہتھیلیوں سے نہیں جاتا۔ان کی نظموں میں وصل کے بعد آنے والے سوالات ہیں۔
ایسی چپ ہے جو آنکھوں میں شور مچاتی ہے۔اور ایسا درد ہے جو "لشکر” سے بھی گہرا ہوتا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا۔
وہ کہتے نہیں، مگر ان کے لفظ چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ وہ روز ایک دعا لے کر نکلتے ہیں — کسی کھوئی ہوئی شے کی تلاش میں۔
ان کا درد روایتی نہیں، بلکہ عشق کی ایسی اگلی منزل پر ہے، جہاں محبت خود سوال بن جاتی ہے۔جب قاری ان کے اشعار میں داخل ہوتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں پر تتلیوں کو محسوس کرنے لگتا ہے۔دل ایک ایسی وحشت میں ڈوبتا ہے جو ختم ہو چکی ہے، مگر اس کا سایہ اب بھی ساتھ چلتا ہے۔وہ شاعر کے ساتھ، لشکروں میں گھس کر زخم کو تلاش کرتا ہے،اور آخر کار خاموش ہو جاتا ہے — کیوں کہ یہ شاعری صرف کہی نہیں گئی، جھیلی گئی ہے۔یہ وہ کلام ہے جو گزرے ہوئے لمحوں کی راکھ سے دوبارہ زندہ ہوتا ہےاور قاری کو خود اس کی اپنی خاموشیوں کا آئینہ دکھا دیتا ہے۔
اب، انہی خوابوں کی راکھ سے، جہاں محبت نے لمحوں کی قبر کھودی تھی، جہاں خاموشی نے آنکھوں میں چراغ رکھے تھے، اور جہاں ہر دعا، جدائی کا دوسرا نام بن گئی تھی وہاں سے احمد حسین مجاہد نے ایک کتاب نکالی ہے…۔۔۔ایک مکمل شہر جو "دوسرے کنارے” پر آباد ہے۔ "شہر کے دوسرے کنارے” صرف ایک کتاب نہیں، یہ اشکوں سے نکھری ہوئی تحریر ہے، سانسوں میں بھیگی ہوئی روشنی ہے۔یہ ان لمحوں کا کچا حساب ہے ،جو محبت کے سود و زیاں میں کبھی پورے نہ ہو سکے۔میں احمد حسین مجاہد کو اس دلگداز، بامعنی، اور فن سے بھرپور کتاب کی اشاعت پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔یہ محض ایک مجموعہ نہیں، بلکہ دلوں کے بند دریچوں پر دستک دینے والا حرفوں کا قافلہ ہے۔دعا ہے کہ ان کا یہ سفرِ سخن، یہ خوابوں سے بنا قافلہ، یہ جذبوں کا لشکر
یونہی رواں رہے۔ ان کی سانسیں شاعری کی مہک میں ڈھلتی رہیں،اور ان کے لفظ، ہمیشہ ایسے ہی زخموں پر رکھے گئے گلاب کی مانند برستے رہیں۔ان کے کلام میں برکت ہو، ان کے قلم میں نرمی ہو،اور ان کے الفاظ ان دلوں تک پہنچتے رہیں جو بول نہیں سکتے مگر محسوس کرتے ہیں۔
آخر چند اشعار دیکھیں
جو دل میں ہے وہ لب چشم تر نہیں آیا
میں خواب لے کے سر رہگزر نہیں آیا
لپٹ گیا صف اعدا میں گھس کے یار سے میں
وہ زخم تھا مجھے لشکر نظر نہیں آیا
میں دے رہا ہوں سرانے کو طول بازو سے
ابھی ترا مرے سینے پہ سر نہیں آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس وصال ٹھکانے حواس جب آئے
تو اس نے مجھ سے یہ پوچھا کہ آپ کب آئے
قبول کرتی نہ تھی ذائقوں کی آگ مجھے
پھر ایک دن کسی ایسی دعا پہ لب آئے
کیا نہ آ کے بھی احساس کر گئی میری شرم
میں اس سے کیسے یہ کہتا کہ تم بھی اب آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑھا کے ربط، مجھے خاک سے دیا کر کے
وہ چھوڑ دے گا محبت میں مبتلا کر کے
مجھے تلاش ہے جس کی، وہ آج بھی نہ ملے
میں روز گھر سے نکلتا ہوں یہ دعا کر کے
وہی خوشی تو تمہارے دکھوں کی ہے بنیاد
جو ہم نے پائی کسی اور کو خفا کر کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب ختم ہو گیا مری وحشت نہیں گئی
مر مر کے دیکھنے کی یہ عادت نہیں گئی
آ بیٹھتی ہیں اب مرے ہاتھوں پہ تتلیاں
پتوں سے اُس کے لمس کی لذت نہیں گئی
لیکن خدا کا شکر ہے، اس ہاؤ ہو میں بھی
اک دوسرے سے چپتی جو شکایت نہیں گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دریائے نہاں تھا، اب نہیں ہوں
میں کہ ہونے کا گماں تھا، اب نہیں ہوں
اس محبت نے مری تہذیب کر دی
میں ہراس دو جہاں تھا، اب نہیں ہوں
آتش افروختہ تھا سر بسر میں
کیسا آشفہ جوان تھا، اب نہیں ہوں

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم (اردو اور ہندکو شاعر/ادیب)۔ تعلیمی قابلیت: بی بی اے آنرز (ایچ آر ایم)، ایل ایل بی اور ایم اے اردو گولڈ میڈلسٹ۔ شائع شدہ کتاب کا نام: اِلی النُور (نعتیہ شاعری)۔ زیرِ طبع کتب۔ 1. لایزال (دوسرا نعتیہ مجموعہ )۔ 2. خواب کہاں جاتی ہیں (اردو شعری مجموعہ ) 3. ہزار میں فارسی زبان و ادب کی روایت (تحقیق) دیگر حوالہ جات کالم نگاری : ادبی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین مختلف ادبی رسائل اور پلیٹ فارمز میں شائع ہو تے رہتے ہیں۔ آپڑی ہندکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بانی بھی ہیں جہاں ہندکو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔