سردار عورت

میر حسن کا ایک اردو کالم

جس عورت کی گود میں انسان پہلی بار آنکھ کھولتا ہے، عجیب بات ہے کہ اسی عورت کو زندگی بھر اپنے وجود کی اہمیت ثابت کرنا پڑتی ہے۔ ہم اسے ماں، بیٹی، بہن اور شریکِ حیات کہتے ہیں، مگر اکثر بھول جاتے ہیں کہ وہ ان سب سے پہلے ایک انسان بھی ہے۔

جس عورت کی گود میں انسان پہلی بار آنکھ کھولتا ہے، عجیب بات ہے کہ اسی عورت کو زندگی بھر اپنے وجود کی اہمیت ثابت کرنا پڑتی ہے۔
ہم اسے ماں کہتے ہیں تو جنت یاد آتی ہے، بیٹی کہتے ہیں تو رحمت، بہن کہتے ہیں تو عزت اور بیوی کہتے ہیں تو شریکِ حیات۔ مگر ان سب رشتوں کے درمیان ایک بات اکثر بھول جاتے ہیں کہ عورت ان سب سے پہلے ایک انسان بھی ہے۔ اس کی اپنی سوچ ہے، اپنی خواہشیں ہیں، اپنے خواب ہیں اور ایسے دکھ بھی ہیں جنہیں وہ کسی سے بیان نہیں کرتی۔
ہم نے عورت کے حسن پر شعر کہے، اس کی آنکھوں کو جھیل، چہرے کو چاند اور زلفوں کو رات کہا۔ مگر کبھی ان آنکھوں میں ٹھہر کر یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان کے پیچھے کیا گزرتی ہے؟

کچھ اور بھی ہے رازِ خد و خال سے پرے
عورت کو اس کے جسم سے آگے بھی دیکھیے

شاید عورت کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی یہی ہوئی کہ ہم اس کے حسن کے قائل تو رہے، مگر اس کے اندر بسنے والے انسان کو سمجھنے کی کوشش نہی کی۔

"جس کی گود میں زمانے پلتے ہیں”

کبھی خیال آتا ہے کہ جب کائنات نے پہلی بار آنکھ کھولی ہوگی اور وقت نے تنہائی میں پہلا آنسو بہایا ہوگا، تو شاید کسی عورت ہی نے اسے اپنے آنچل سے پونچھا ہوگا۔
اسی کی گود میں فلسفی پلے، اسی کی لوریوں پر جنگجو سوئے اور اسی کے ہاتھوں وہ بچے پروان چڑھے جنہوں نے آگے چل کر دنیا کی تاریخ بدل دی۔
عورت صرف نسلوں کو جنم نہیں دیتی، وہ انہیں زندگی کا پہلا سبق بھی پڑھاتی ہے۔ اس کے ہاتھوں میں ایک بچے کی پرورش کے ساتھ ایک آنے والے زمانے کی صورت بھی بنتی ہے۔

میرے اندر نمو پاتی ہیں آنے والی نسلیں بھی
خدا کی قدرتِ تخلیق کا مظہر عورت ہوں

لیکن عورت کی عظمت کو صرف ماں بننے تک محدود کرنا بھی درست نہیں۔ ہر عورت ماں نہیں ہوتی، مگر ہر عورت عزت کی مستحق ضرور ہوتی ہے۔
وہ ماں ہو، بیٹی ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا ان رشتوں سے الگ اپنی زندگی گزار رہی ہو، اس کے احترام کی بنیاد اس کا انسان ہونا ہے۔
کبھی سوچتا ہوں کہ آج بھی بعض گھروں میں بیٹی کی پیدائش پر وہ خوشی کیوں نہیں ہوتی جو بیٹے کی آمد پر منائی جاتی ہے؟ ایک وقت تھا جب بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور قرآنِ کریم نے ان معصوم بچیوں کے حق میں ایسا سوال کیا جو آج بھی انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

سورۃ التکویر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ۝ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے، کس خطا پر ماری گئی۔

سورۃ التکویر، آیات ۸–۹ · ترجمہ کنز الایمان

ذرا سوچیے، جس بچی کو دنیا میں جینے کا حق تک نہیں دیا گیا، قرآن نے اس پر ہونے والے ظلم کو قیامت کے منظر میں یاد دلایا۔ اور ہم ہیں کہ آج بھی بعض اوقات بیٹی کی پیدائش پر ایک دوسرے کو تسلیاں دیتے نظر آتے ہیں، جیسے گھر میں رحمت نہیں، کوئی مصیبت آ گئی ہو۔
زمانہ بدل گیا، رسمیں بدل گئیں، مگر بعض رویے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔

"محبت میں عورت کا بھروسا”

محبت میں کسی عورت کے اعتماد کو سمجھنا ہو تو ایک نابینا مسافر کا تصور کیجیے، جس نے کسی کا ہاتھ تھام رکھا ہو۔
وہ نہیں جانتا کہ سامنے راستہ ہے یا کھائی۔ اسے صرف اس شخص پر یقین ہے جس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں ہے۔
محبت میں بعض عورتیں بھی اسی طرح اعتماد کرتی ہیں۔
وہ کسی شخص کو اپنی زندگی میں جگہ دیتی ہیں، اس کے ساتھ مستقبل کے خواب دیکھتی ہیں، اپنی خوشیوں کو اس کی خوشیوں سے جوڑ لیتی ہیں۔ پھر اگر وہی شخص بے اعتنائی اختیار کر لے تو دکھ صرف جدائی کا نہیں ہوتا، اپنے یقین کے ٹوٹنے کا بھی ہوتا ہے۔

یہ بے برکت رفاقت دسترس کی دین ہے پیارے
تجھے حاصل ہوں، اب تیرے لیے بیکار عورت ہوں

کسی انسان کو پانے سے پہلے اس کی ایک جھلک کے لیے بے چین رہنا اور اسے پا لینے کے بعد اس کی موجودگی کو معمولی سمجھنے لگنا، محبت کی کتنی تلخ صورت ہے۔
ایک لڑکی جسے اس کا باپ اپنے گھر کی سردار کہتا تھا، جو اپنے بھائیوں کو زندگی کے گُر سکھاتی تھی، کبھی شادی کے بعد ایسے گھر میں پہنچ جاتی ہے جہاں اسے اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے لیے بھی اجازت کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

جسے باپ نے سردار کہا، اسے شریکِ حیات نے اپنی ملکیت کیوں سمجھ لیا؟
نکاح محبت، اعتماد اور باہمی احترام کا مقدس رشتہ ہے، جس میں میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے زندگی بھر ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔

یہاں قرآنِ کریم کی ایک ہدایت یاد آتی ہے۔

سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ
اور ان سے اچھا برتاؤ کرو۔

سورۃ النساء، آیت ۱۹ کا حصہ · ترجمہ کنز الایمان

کتنے مختصر الفاظ ہیں، مگر کتنے وسیع معنی رکھتے ہیں۔ اچھا برتاؤ صرف کھانے، کپڑے اور رہائش کا نام تو نہیں۔ اس میں لہجے کی نرمی، ایک دوسرے کے احساسات کا خیال اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی شامل ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ
عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔

صحیح بخاری، حدیث ۳۳۳۱ · حدیث کا متعلقہ حصہ، اردو مفہوم

یہ باتیں پڑھ کر کبھی اپنے گھروں کی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔ کہیں ہم محبت کے نام پر دوسرے انسان کی شخصیت تو نہیں مٹا رہے؟ کہیں ہمارا اختیار اس کے لیے خوف کا سبب تو نہیں بن گیا؟
محبت میں اختلاف ہو سکتا ہے، ناراضی بھی ہو سکتی ہے، مگر عزت ختم ہو جائے تو رشتے کے اندر بہت کچھ ٹوٹ جاتا ہے۔
اور بے وفائی؟ وہ کسی ایک جنس سے مخصوص نہیں۔
بے وفائی کا فیصلہ ایک شخص کرتا ہے، مگر اس کی قیمت اکثر دوسرا شخص چکاتا ہے۔ کبھی اپنی نیند سے، کبھی اپنے سکون سے اور کبھی دوبارہ کسی پر بھروسا کرنے کی ہمت سے۔
یہ بھی سچ ہے کہ ہر رشتہ چھوڑنے والا بے وفا نہیں ہوتا۔ بعض لوگ محبت ختم ہونے پر نہیں، عزت ختم ہونے پر چلے جاتے ہیں۔
کسی کو روک لینے سے محبت ثابت نہیں ہوتی۔ محبت تو وہ ہے جس میں انسان اپنی مرضی سے ٹھہرنا چاہے۔

"اسے پھول دیے، مگر اس کے آنسو نہ دیکھے”

انسان نے عورت کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔
کیڑوں سے ریشم حاصل کیا، مٹی سے شیشہ بنایا، زمین کی تہوں سے سونا نکالا، سمندروں میں اتر کر موتی تلاش کیے۔ گھر بنائے، ان کے گرد باغ لگائے، باغوں میں پھول کھلائے اور پھول اس کے بالوں میں سجا دیے۔
مگر جب وہ انہی پھولوں کے درمیان بیٹھ کر رو پڑی تو ہم نے حیرت سے پوچھا:
تم روتی کیوں ہو؟

شاید اس لیے کہ اسے پھول تو مل گئے تھے، مگر اس کی بات سننے والا کوئی نہیں تھا۔
شاید اس لیے کہ اس کے چہرے کی تعریف کرنے والے بہت تھے، مگر اس کی خاموشی سمجھنے والا کوئی نہیں تھا۔
کبھی ایک پھول اسے خوش کر دیتا ہے اور کبھی ایک تلخ لفظ اس کے دل میں برسوں کے لیے رہ جاتا ہے۔
یہ انسان کے دل کی نزاکت ہے، جسے ہم عورت کی کمزوری سمجھ بیٹھتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اچھا گھر، اچھے کپڑے اور ضروری سہولتیں دے دینا کافی ہے۔ مگر عورت صرف چیزوں سے خوش نہیں رہتی۔ اسے محبت چاہیے، توجہ چاہیے، ایسا لہجہ چاہیے جس میں اس کے لیے احترام ہو۔
عورت کے لیے دنیا بھر کے پھول لانے سے پہلے اپنے لہجے کے کانٹے نکال دیجیے۔

"عزت بیٹی کے ہاتھ، جائیداد بیٹوں کے نام”

ہمارے معاشرے میں عورت کی عزت پر جتنی بات ہوتی ہے، اتنی شاید اس کے حقوق پر نہیں ہوتی۔
خاندان کی عزت بیٹی کے ہاتھ میں رکھ دی جاتی ہے، مگر خاندان کی جائیداد بیٹوں کے نام کر دی جاتی ہے۔
بیٹی کے لباس، اس کی آواز، اس کے آنے جانے اور اس کے فیصلوں پر سب کی نظر ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ اپنے وراثتی حق کی بات کرے تو اسے رشتوں کا واسطہ دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔
یہ کیسا انصاف ہے؟
اسلام نے عورت کے لیے وراثت میں حصہ مقرر کیا، مہر کو اس کا حق بنایا اور نکاح میں اس کی رضامندی کو اہمیت دی۔ یہ حقوق کسی کی مہربانی سے نہیں ملتے، شریعت نے انہیں تسلیم کیا ہے۔
مگر ہمارے ہاں کبھی کبھی صورتِ حال اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔
ہم قربانی کے جانور کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ جائز ہے یا نہیں، مگر بہن کا حصہ اپنے نام کرتے ہوئے کبھی نہیں پوچھتے کہ یہ جائز ہے یا نہیں۔
بہن کے گھر سے پانی پینا بعض لوگوں کی غیرت کو گوارا نہیں، مگر اسی بہن کا شرعی حصہ ہڑپ کرتے ہوئے انہیں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔

دین نے عورت کو حق دیا، ہم نے بعض اوقات اسی حق کو احسان بنا کر پیش کیا۔

اور یہ تضاد صرف وراثت تک محدود نہیں۔
ہم اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے لیے احترام چاہتے ہیں، مگر کبھی دوسروں کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ وہی احترام روا نہیں رکھتے۔
بعض مرد بازار میں اکیلے ہوں تو عورتوں کو گھورتے ہیں، مگر اپنے گھر کی کسی عورت کے ساتھ نکلیں تو دوسروں کی نگاہوں پر غصہ کرتے ہیں۔
یعنی انہیں اپنی نگاہ کا حساب دینا مشکل لگتا ہے، مگر دوسروں کی نگاہوں کا حساب فوراً چاہیے۔
کسی عورت کی عزت اس بات سے کیوں طے ہو کہ وہ کس کی بیٹی ہے یا کس کی بیوی؟
جو احترام ہم اپنے گھر کی عورت کے لیے چاہتے ہیں، وہی کسی اجنبی عورت کا بھی حق ہے۔
غیرت کا اصل امتحان دوسروں پر پابندیاں لگانا نہیں، اپنے کردار کو درست رکھنا ہے۔

"عورت کے صبر کی قیمت”

عورت کے صبر کی مثالیں ہم بڑے فخر سے دیتے ہیں۔
ماں بچوں کے لیے تکلیفیں سہتی ہے۔ بیوی گھر بچانے کے لیے اپنی خواہشیں قربان کرتی ہے۔ بیٹی والدین کی خوشی کے لیے اپنے خواب پیچھے رکھ دیتی ہے۔
مگر کبھی سوچا کہ ہم اس کے صبر کی اتنی تعریف کیوں کرتے ہیں؟
کہیں اس لیے تو نہیں کہ اس کی خاموشی سے ہماری زندگی آسان رہتی ہے؟
کتنی عورتیں ایسی ہیں جو ساری رات پریشان رہتی ہیں اور صبح اٹھ کر معمول کے مطابق گھر کے کام شروع کر دیتی ہیں۔ کسی کو خبر تک نہیں ہوتی کہ رات ان پر کیسے گزری۔
کبھی وہ بچوں کے لیے مسکراتی ہیں، کبھی گھر والوں کی خاطر اپنی پریشانی چھپا لیتی ہیں۔
لیکن ہر خاموشی صبر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی اس یقین کے ختم ہو جانے کا نام ہے کہ کوئی بات سننے والا بھی ہے۔
ہم عورت کو مضبوط کہتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ مضبوط انسان بھی تھک سکتا ہے۔
اسے بھی کسی سہارے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ وہ بھی کسی کے سامنے دل کھول کر رو سکتی ہے۔
عورت کے صبر کو سلام کرنے سے پہلے اس شخص کا ہاتھ روکیے جو اس کے صبر کو آزماتا رہتا ہے۔
اور عورت کو صرف مظلوم سمجھ لینا بھی اس کے ساتھ انصاف نہیں۔
وہ نڈر بھی ہے، خوددار بھی، محنت کرنے والی بھی۔ وہ اپنے بچوں کے لیے دنیا سے لڑ سکتی ہے، اپنے حق کے لیے کھڑی ہو سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کر سکتی ہے۔
اس کی نرمی کو بے بسی سمجھنا غلطی ہے۔

"عورت کو آخر چاہیے کیا؟”

شاید اس سوال کا جواب ہر عورت کے لیے مختلف ہو۔
کسی کو محبت چاہیے، کسی کو سکون، کسی کو تعلیم، کسی کو معاشی آزادی اور کسی کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حق۔
لیکن ایک چیز سب کے لیے مشترک ہے: احترام۔
ہم عورت کو خوبصورت کہتے ہیں، اس کے لیے شعر لکھتے ہیں، اسے رحمت، محبت اور وفا کا نام دیتے ہیں۔
مگر اگر انہی خوبصورت لفظوں کے پیچھے اس کی زندگی مشکل بنا دی جائے تو ان تعریفوں کا کیا فائدہ؟
اسے دیوی بنانے کی ضرورت نہیں۔ اسے انسان سمجھیے۔
اس کی بات سنیے۔ اس کی رائے کو اہمیت دیجیے۔ اس کی غلطی پر اسے سمجھنے کا موقع دیجیے۔ اس کی کامیابی پر خوش ہوئیے۔
اور اگر وہ کسی دن تھک جائے تو اسے یہ مت کہیے کہ تم عورت ہو، تمہیں تو برداشت کرنا چاہیے۔
اس سے صرف اتنا پوچھیے:
تم ٹھیک تو ہو؟
ممکن ہے وہ مدتوں سے کسی کے یہی پوچھنے کی منتظر ہو۔
ہم نے عورت کو پھولوں سے تشبیہ دی، مگر کبھی اسی پھول کو اپنے ہاتھوں سے مسل دیا۔ اسے گھر کی عزت کہا، مگر گھر کے فیصلوں سے دور رکھا۔ اس کی وفا کے قصے سنائے، مگر اس سے وفا کرنا بھول گئے۔
اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ وہ خوش کیوں نہیں۔
عورت کی عظمت پر ایک اور کتاب لکھ دینے سے شاید کچھ نہ بدلے۔ اس کے حق میں ایک اور تقریر بھی کافی نہیں ہوگی۔
تبدیلی تب آئے گی جب بیٹی کی پیدائش پر واقعی خوشی ہوگی، بہن کو اس کا حصہ مانگے بغیر ملے گا، بیوی کی رائے کو اہمیت دی جائے گی، ماں کے بڑھاپے میں اس کی تنہائی محسوس کی جائے گی اور کسی اجنبی عورت کو بھی انسان سمجھ کر دیکھا جائے گا۔

عورت کو آسمان پر بٹھانے کی ضرورت نہیں۔
اسے زمین پر اس کے حصے کی جگہ دے دیجیے

کیونکہ جس عورت کے وجود سے کائنات میں رنگ ہے، اس کے اپنے حصے کی زندگی بے رنگ نہیں ہونی چاہیے۔

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔