کرب کی سُولی
دیکھو! دیکھو زیست کے سارے لمحے کرب کی سولی پر لٹکے ہیں اور اس دار کے چاروں جانب کچھ جانے پہچانے سپنے ماتم کی پوشاک پہن کر مایوسی سے سر کو جھکائے (جیسے اپنا آپ گنوائے) جانے کیوں چپ چاپ کھڑے ہیں
شازیہ اکبر
تمہید الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام على محمد النبی الأمین، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔…
ایک اردو تحریر از عابد ضمیر ہاشمی
تحریر : سہیل احمد صمیم
روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل
میر حسن کا ایک اردو کالم