قلب و جگر کو اضطراب نے مارا ہوگا

نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل

قلب و جگر کو اضطراب نے مارا ہوگا
بن پڑھے جب اس نے خط میرا پھاڑا ہوگا !

میرے مقدر کا ستارہ گردش میں رہتا ہے
میرا بخت، بھی میرا ہونے سے پہلے دھاڑا ہوگا !

جو بھی اس کو دیکھنے دل ہار بیٹھے
جس کو اس نے چایا، وہ کتنا پیارا ہوگا !

اور اپنے دکھ میں کسی کا دل نہیں دکھاتے
ہرموڑ پے لگتا ہے، وہی حادثہ دوبارہ ہوگا !

تم جس کا پوچھتے ہو تو بتا دو تم کو
جو میرا نہ ہوا تم کو لگتا ہے ,تمہارا ہوگا؟

نگار فاطمہ انصاری

نگار فاطمہ انصاری

نگار فاطمہ انصاری قلمی نام ہے ۔ تعلق یوپی کے مرادآباد ضلع سے ہے - اور 2024 میں شاعری کی دنیا میں قدم رکھا۔