پھر ترا کوزہ گر بھرم رکھا

عمران سیفی کی اردو غزل

پھر ترا کوزہ گر بھرم رکھا
خاک نے چاک پر قدم رکھا

میں نے رکھی تھیں راہ پر آنکھیں
اور بدلے میں اس نے نم رکھا

درد کا ہو رہا تھا بٹوارا
اپنے حصے کا اس نے کم رکھا

بُت کدے میں پڑاو ہے اپنا؟
کس نے سامان میں صنم رکھا؟

غم ترا اور میرا ایک ہوا
میں نے سینے پہ جو عَلم رکھا

عمران سیفی

عمران سیفی

میرا نام عمران سیفی ہے میں ڈنمارک میں مقیم ہوں پاکستان میں آبائی شہر سیالکوٹ ہے میرا پہلا شعری مجموعہ ستارہ نُما کے عنوان سے چھپ چکا ہے جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے