نسبت و نام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں

سلیم فگار کی ایک اردو غزل

نسبت و نام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں
ان در و بام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں

واہمے، سود و زیاں روند کے سب پیروں تلے
دل کے ابہام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں

زندگی ہاتھ پکڑ لے جو مرا آج کی شام
بحرِ ہنگام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں

تشنگی تیرے تسلسل کا مزہ قائم ہے
آج بھی جام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں

ڈھلتی دوپہر نے پیغام دیا میرے لیے
آؤاس شام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں

رک کے سنتے نہیں لفظوں میں بھرے معنی کو
اصل پیغام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں

سلیم فگار

سلیم فگار

السلام علیکم ! میرا پورا نام محمد سلیم ہے قلمی نام سلیم فگار ہے- تعلق جہلم سے ہے - میرے تین شعری مجموعے ہیں - ستارہ سی کوئی شام - سنِ اشاعت مارچ دو ہزار پندرہ- تغیر۔ سنِ اشاعت ستمبر دوہزار انیس- خواب کی اذیت میں۔ سنِ اشاعت جنوری دوہزار چھبیس-