ناز اٹھاتا پھرے ہے کس کس کا

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ناز اٹھاتا پھرے ہے کس کس کا
آپ سے کام آ پڑا جس کا

ہم بھی شاکی ہیں، آپ بھی شاکی
اب کرے کون فیصلہ کس کا

میرے جاتے ہی ہو گیا باقیؔ
اور ہی اور رنگ مجلس کا

باقی صدیقی