محبت مری اک کہانی رہے گی
مرے دل پہ تیری نشانی رہے گی
کہا تھا کہ اب ہم جدا ہی رہیں گے
محبت فقط اب زبانی رہے گی
زمانہ بدل کر نیا ہو چکا ہے
مگر یاد تیری، پرانی رہے گی
ترا رخ قمر سا چمکتا رہے گا
مری شب ادھوری کہانی رہے گی
کبھی تم مرے خط جلانے لگو گی
مگر اک دعا جاودانی رہے گی
نہ جانے یہ کب تک جوانی رہے گی
محبت مری زندگانی رہے گی
تمہیں ہر خوشی کا جہاں بھی ملے گا
مرے دل پہ غم کی گرانی رہے گی
مگر اب کسی سے شکایت نہ کرنا
مری چپ مری ترجمانی رہے گی
حسنؔ اب ستاروں پہ اک گھر بنانا
وہاں بس ہماری کہانی رہے گی
میر حسن