محبت مری اک کہانی رہے گی

میر حسن کی ایک اردو غزل

محبت مری اک کہانی رہے گی
مرے دل پہ تیری نشانی رہے گی

کہا تھا کہ اب ہم جدا ہی رہیں گے
محبت فقط اب زبانی رہے گی

زمانہ بدل کر نیا ہو چکا ہے
مگر یاد تیری، پرانی رہے گی

ترا رخ قمر سا چمکتا رہے گا
مری شب ادھوری کہانی رہے گی

کبھی تم مرے خط جلانے لگو گی
مگر اک دعا جاودانی رہے گی

نہ جانے یہ کب تک جوانی رہے گی
محبت مری زندگانی رہے گی

تمہیں ہر خوشی کا جہاں بھی ملے گا
مرے دل پہ غم کی گرانی رہے گی

مگر اب کسی سے شکایت نہ کرنا
مری چپ مری ترجمانی رہے گی

حسنؔ اب ستاروں پہ اک گھر بنانا
وہاں بس ہماری کہانی رہے گی

میر حسن

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔