موت کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی

زین محکم کی ایک اردو غزل

موت کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی
مار ڈالا ہے زندگی نے مجھے

جس کو بھیجے ہیں پھول تحفے میں
خار بھیجے ہیں اُس کلی نے مجھے

آبلہ پائی اور رسوائی
یہ دیا ہے تیری گلی نے مجھے

تشنہ لب میں گیا کنارے پر
ریت ہی ریت دی ندی نے مجھ

میں اندھیرے میں دیکھ سکتا ہوں
روشنی دی ہے تیرگی نے مجھے

اس لئے میں خموش رہتا ہوں
شعر بخشے ہیں خامشی نے مجھے

موت رہتی ہے میرے پہلو میں
پر سنبھالا ہے زندگی نے مجھے

زین محکم

زین محکم

نام : زین محکم - مستقل پتہ ؛ سکیکھی حافظ آباد - عارضی پتہ : لاہور - طالب علم ہوں سپیریر یونیورسٹی میں کارڈیولوجی ڈپارٹمنٹ سے بیچلر کی تعلیم لے رہا ہوں