مریم مختیار: قربانی اور حوصلے کی مثال
پاکستان کی تاریخ میں کچھ ایسے نام ہمیشہ کے لیے یاد رہ جاتے ہیں، جو اپنے حوصلے، قربانی اور وطن سے محبت کی وجہ سے ہر دل میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ فلائنگ آفیسر مریم مختیار کا نام بھی ایسے بلند پرواز اور حوصلہ مند پاکستانی خواتین میں شامل ہے۔ آج ہم ان کی دسویں برسی مناتے ہیں اور ان کی خدمات کو یاد کرتے ہیں۔
مریم مختیار کراچی میں پیدا ہوئیں۔ بچپن سے ہی وہ نہایت ذہین، پرعزم اور محنتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔ دو ہزار گیارہ میں انہوں نے جی ڈی پائلٹ کورس کا آغاز کیا اور جلد ہی اپنی مہارت، جذبے اور عزم کی وجہ سے نمایاں ہو گئیں۔
مریم مختیار نے اپنی تربیت کے دوران ہر مشق کو مکمل دھیان اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا۔ وہ نہ صرف ایک بہترین پائلٹ تھیں بلکہ اپنی ٹیم کے لیے حوصلے اور حوصلہ افزائی کا باعث بھی تھیں۔ ان کی لگن اور پیشہ ورانہ مہارت نے پاک فضائیہ کے لیے ایک نئی مثال قائم کی۔
چوبیس نومبر دو ہزار پندرہ کو میانوالی کے قریب ایک تربیتی مشن کے دوران ان کے جہاز میں فنی خرابی پیدا ہوئی۔ یہ لمحہ انتہائی خطرناک تھا، لیکن مریم نے اپنی جان کی پرواہ نہ کی اور جہاز کو انسانی آبادی اور کھیت کھلیان سے دور لے جانے کی کوشش کی۔ ان کا یہ جذبۂ ذمہ داری اور قربانی ایک حقیقی ہیروئن کی پہچان تھی۔ بدقسمتی سے وہ اپنی یہ خدمت انجام دیتے ہوئے شہید ہو گئیں۔ ان کی قربانی نہ صرف پاک فضائیہ بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔
مریم مختیار کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خواتین بھی کسی بھی شعبے میں مردوں کے برابر اور بعض اوقات ان سے بڑھ کر کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔ ان کا حوصلہ، جذبۂ خدمت اور قربانی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں ان کی خدمات کو یاد رکھنا چاہیے اور ان کے حوصلے سے سبق لینا چاہیے۔
ان کی قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ وطن کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔ مشکل حالات میں بھی حوصلہ نہ چھوڑنا اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ثابت قدم رہنا حقیقی حب الوطنی کی نشانی ہے۔ مریم مختیار نے اپنی زندگی کے ہر لمحے میں یہی سبق دیا کہ قربانی اور جرات کا راستہ ہمیشہ قابلِ احترام ہوتا ہے۔
آج جب ہم مریم مختیار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں تو یہ صرف ایک یاد نہیں، بلکہ ایک پیغام بھی ہے کہ ہر پاکستانی، خاص طور پر نوجوان، اپنی قابلیت اور حوصلے کے ذریعے ملک کی خدمت کر سکتا ہے۔ ان کی قربانی ہمارے لیے روشنی کی مانند ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ وطن کی خدمت میں جان کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، اور ہر مشکل کا مقابلہ حوصلے اور عزم کے ساتھ کرنا چاہیے۔
مریم مختیار کی زندگی اور قربانی آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کی مثال ہر پاکستانی کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی حب الوطنی صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں بھی نظر آتی ہے۔
یوسف صدیقی