مدھم مدھم

ستیا پال آنند کی ایک اردو نظم

مدھم مدھم

دھیرے دھیرے
صحرا میں سورج کی آڑی ترچھی کرنیں
نالاں، شاکی
اپنے ترچھے سایوں کی پسپائی پر
اب سبک سبک کر
اُؒ لٹے پاؤں چلتے چلتے
دور افق میں ڈوب گئی ہیں
ایک نئی ہلکی ’ ’ سُر لہری‘‘
نرم فضا میں تھر تھر کرتی
جنباں، لرزاں، افتاں، خیزاں
خاموشی کی پرتوں میں نیچے سے اوپر ابھر رہی ہے
مہر بلب ۔۔ پھر سائیں سائیں سرگوشی سی
مِن مِن ، کِن کِن، گلو گیر
شیریں ، زہریلی
ناگ پھنی کا رس امرت
کانوں کو ٹپ ٹپ گھول پلاتی
لوری کی لَے میں اک ’’ٹھاٹ‘‘ سا
قطرہ قطرہ ۔۔صوت کا شربت
زہر سا میٹھا
شہد سا کڑوا
کان گپھا میں ٹپک گیا ہے
سُر کی گت ’اُپ ناس‘ میں الجھی
ناگ پھنی کے کیل کانٹوں سے لیس بدن پر
سرک سرک کر
ناگن کے آگے بڑھنے کے سُر سنگیت سی گونج گئی ہے

مرتے مرتے یہ آلاپ اب
انتم سانس میں
مجھ کو بھی
چُپ چاپ سمادھی کی حالت میں چھوڑ گیا ہے!

ستیا پال آنند

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔