کون و مکاں کی گرد میں لپٹے پڑے رہے

زین محکم کی ایک اردو غزل

کون و مکاں کی گرد میں لپٹے پڑے رہے
بھیجے تھے تم نے جو مجھے تحفے پڑے رہے

چاہا تھا جس طرح ہمیں مالک غفور نے
ہم لوگ اس جہان میں ویسے پڑے رہے

آسیب جن کو چھوڑ کے آیا تھا پچھلے گھر
ہجرت کے باوجود بھی پیچھے پڑے رہے

ہم بے بہا امیر تھے، دولت تھی، جب تلک
جیبوں میں تیری یاد کے سکے پڑے رہے

زین محکم

زین محکم

نام : زین محکم - مستقل پتہ ؛ سکیکھی حافظ آباد - عارضی پتہ : لاہور - طالب علم ہوں سپیریر یونیورسٹی میں کارڈیولوجی ڈپارٹمنٹ سے بیچلر کی تعلیم لے رہا ہوں