جو اپنے یار سے درخواست کرنا
بہت ہی پیار سے درخواست کرنا
سدا شاداب کرداروں میں رکھے
کہانی کار سے درخواست کرنا
بہارِ زندگی رنگین کر دیں
لب و رخسار سے درخواست کرنا
پکڑ کر کھول دے پلکیں تمھاری
کسی بیدار سے درخواست کرنا
نہ جائیں گھر کی باتیں گھر سے باہر
در و دیوار سے درخواست کرنا
پرانی کو غلط کہنا غلط ہے
نئی اقدار سے درخواست کرنا
وطن پردیسیوں کی ہے محبت
سمندر پار سے درخواست کرنا
قلم کی بات رد کر دے جو دنیا
تو پھر تلوار سے درخواست کرنا
کریں افشا نہ کوئی راز تیرا
فصیح اشعار سے درخواست کرنا
شاہین فصیح ربانی