جہاز اک دن سمے کے

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

جہاز اک دن سمے کے دوسرے ساحل سے پہنچیں گے
ہمارے حال تک کچھ لوگ مستقبل سے پہنچیں گے

زمیں والو رصد گاہ زماں سے دیکھتے رہنا
ہمارے عکس نوری سال کے جھلمل سے پہنچیں گے

میں خود تو ہو چکا ہوں کائناتی دھول کا حصہ
مرے ذرات تم تک گرد لا حاصل سے پہنچیں گے

ہمیں دیکھو کہ کتنا سہل پہنچے نارسائی تک
غلط تم نے کہا تھا ہم یہاں مشکل سے پہنچیں گے

غزل دل کے گرامو فون پر بجتی ہوئی دھن ہے
جہاں پہنچے گی دھن ہم بھی وہاں تک دل سے پہنچیں گے

زمانوں پار جا نکلیں گے آنکھیں موند کر شاہدؔ
مقامات خبر تک خواب کی منزل سے پہنچیں گے

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں