جاگنا تھا ہم کو سو بیدار ہوتے رہ گئے کارواں جاتا رہا ہم ہائے سوتے رہ گئے
بوے گل پیش از سحر گلزار سے رخصت ہوئی ہم ستم کش روبرو اس کے تو سوتے رہ گئے
جی دیے بن وہ در مقصود کب پایا گیا بے جگر تھے میر صاحب جان کھوتے رہ گئے
میر تقی میر
میر حسن کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کی ایک اردو نظم