جاگنا تھا ہم کو سو بیدار ہوتے رہ گئے کارواں جاتا رہا ہم ہائے سوتے رہ گئے
بوے گل پیش از سحر گلزار سے رخصت ہوئی ہم ستم کش روبرو اس کے تو سوتے رہ گئے
جی دیے بن وہ در مقصود کب پایا گیا بے جگر تھے میر صاحب جان کھوتے رہ گئے
میر تقی میر
ایک اردو نظم از محمد یوسف برکاتی
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
اردو غزل از بشیر بدر
محمد یوسف میاں برکاتی کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از ایم اے دوشی