جاگنا تھا ہم کو سو بیدار ہوتے رہ گئے کارواں جاتا رہا ہم ہائے سوتے رہ گئے
بوے گل پیش از سحر گلزار سے رخصت ہوئی ہم ستم کش روبرو اس کے تو سوتے رہ گئے
جی دیے بن وہ در مقصود کب پایا گیا بے جگر تھے میر صاحب جان کھوتے رہ گئے
میر تقی میر
صنم فاروق کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از رفیق لودھی
محبت کا جہاں لکھا، وفاؤں کا سماں لکھا ہوا ربّ مہرباں میں نے کبھی جو…
ایک اردو غزل از رشید حسرت
بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل