جاگنا تھا ہم کو سو بیدار ہوتے رہ گئے کارواں جاتا رہا ہم ہائے سوتے رہ گئے
بوے گل پیش از سحر گلزار سے رخصت ہوئی ہم ستم کش روبرو اس کے تو سوتے رہ گئے
جی دیے بن وہ در مقصود کب پایا گیا بے جگر تھے میر صاحب جان کھوتے رہ گئے
میر تقی میر
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
میر حسن کی ایک اردو غزل