ان لوگوں میں رہنے سے ہم ، بے گھر اچھے تھے
کچھ دن پہلے تک تو سب ک تیور اچھے تھے
دیکھ رہا ہے جس حیرت سے پاگل کر دے گا
آئینے سے دار لگتا ہے ، پتھر اچھے تھے
نادیدہ آزار بدن کو غارت کر دے گا
زخم جو دل میں جا اترے ہیں ، باہر اچھے تھے
رات ستاروں والی تھی اور دھوپ بھرا تھا دن
جب تک آنکھیں دیکھ رہی تھی ، منظر اچھے تھے
آخر کیوں احسان کیا ہے زندہ رکھنے کا
ہم جو مر جاتے تو، بندہ پرور ، اچھے تھے
آنکھیں بھر آئ ہیں فیصل ، ڈوب گئے ہیں لوگ
ان میں کچھ ظالم تھے لیکن اکثر اچھے تھے
فیصل عجمی