ہمارے سینے کے وسط میں

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

ہمارے سینے کے وسط میں اور ہی فضا ہے
وہاں رتیں اور ہیں جہاں خط استوا ہے

امید کو خوف خوف کو کھا رہی ہے غفلت
غذائی زنجیر کی طرح دل کا سلسلہ ہے

ہمارے رونے پہ ہنسنے لگتے ہیں آنے والے
ہماری دیوار گریہ دیوار قہقہہ ہے

تمام عالم پھرا ہوں پہنچا کہیں نہیں ہوں
پہنچ مری نا رسائیوں کی جگہ جگہ ہے

دعا نہیں قحط میں ذہانت ہی کام آئی
یہ کھیت مصنوعی بارشوں سے ہرا ہوا ہے

کدھر کدھر سے بچائیں سینے کی شعلگی کو
بدن کے چاروں طرف ہی قطبین کی فضا ہے

ہماری آہ و فغاں کسی تک نہیں پہنچتی
خلا میں صوت و صدا کی ترسیل مسئلہ ہے

جڑا ہی رہتا ہے خاکساری سے قلب روشن
قمر ہمیشہ زمین کے گرد گھومتا ہے

یہ گریہ حاصل ہے امتزاج نشاط و غم کا
اساس و تیزاب کے عمل سے نمک بنا ہے

میں تجھ کو ماضی میں جا کے ممکن ہے دیکھ پاؤں
بشر تجاذب کی لہر دریافت کر چکا ہے

گنہ پہ آنسو بہا کے ہوں باغ باغ شاہدؔ
مرے سیہ پانیوں میں سبزہ اگا ہوا ہے

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں