ہم نے اپنی تمہیں شاعری بھیج دی

رشید حسرت کی ایک اردو غزل

ہم نے اپنی تمہیں شاعری بھیج دی
اس میں ہے یا نہیں دل کشی، بھیج دی

رات بھر اس کی تجسیم کرتا رہا
پھر سحر باندھ کر چاندنی بھیج دی

ہم ہیں پردیس میں در بدر، اپنے گھر
اپنا سارا سکوں، تازگی بھیج دی

ہم نے سنجیدہ اک بات کی تھی مگر
اس کو سوجھی کوئی دل لگی بھیج دی

چوڑی ٹوٹی کوئی اک ہرے رنگ کی
جو رکھی تھی نشانی تری، بھیج دی

مے سے جو بے خودی ہم پہ طاری ہوئی
ہم نے تھوڑی رکھی، تھوڑی سی بھیج دی

ساز ٹوٹے مرے صوت بیٹھی ہوئی
اس کو بے وقت کی راگنی بھیج دی

لب کیے تر یہاں بنتِ انگور سے
اور ہونٹوں کی سب تشنگی بھیج دی

جسم پر اوڑھ لیں ساری تاریکیاں
اس کو حسرتؔ مگر روشنی بھیج دی

رشید حسرتؔ

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔