ہم غرِیبی کی رِدا تان کے

رشید حسرت کی ایک اردو غزل

ہم غرِیبی کی رِدا تان کے سو جاتے ہیں
زخم سب گِنتے ہُوئے آن کے سو جاتے ہیں

شب کو تھکتے ہیں تو فُٹ پاتھ کنارے ہی کہیں
ساتھ اٹھائے ہوئے سامان کے سو جاتے ہیں

بُھوک آنکھوں میں نمی بن کے چمک جاتی ہے
بچّے بُھوکے مِرے دہقان کے سو جاتے ہیں

اِس سے پہلے کہ کوئی کام ہمیں لا سونپے
جاں بچانے کے لِیئے جان کے سو جاتے ہیں

بات سے بات نِکل آئی غرِیبی کی میاں
جاگتے دشت سو ارمان کے سو جاتے ہیں

ہم کو محرُومیوں کی دُھول مِلی، زخم مِلے
ہم نصِیب اپنا اِسے مان کے سو جاتے ہیں

جِس نے بُنیاد رکھی مُلک میں مہنگائی کی
نالے کرتے ہُوئے عِمران کے سو جاتے ہیں

ہم نے دیکھا ہے کہ قِیمت بھی ادا ہوتی ہے
مُتحمّل نہِیں احسان کے سو جاتے ہیں

کیوں سمجھ بیٹھے کہ اب صاحبِ سِطوت ہم ہیں
چند ٹکڑے جو مِلے دان کے، سو جاتے ہیں

نہ سُپاری نہ کتھا ہے نہ تماکُو گھر میں
ہم تو قابِل نہ رہے پان کے، سو جاتے ہیں

ہم نے مطبخ میں رشِیدؔ اپنا لگایا بِستر
ناز اُٹھاتے ہُوئے مہمان کے سو جاتے ہیں

رشِید حسرتؔ

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔