ہم اپنی مرضی کا وحشت کدہ بنائیں گے

عثمان علوی کی ایک اردو غزل

ہم اپنی مرضی کا وحشت کدہ بنائیں گے
خلا بنایا تو سینہ کھلا بنائیں گے

جو لے کے جاتا ہوں خوابوں کے دائروں سے پرے
ہم اپنی رات میں وہ راستہ بنائیں گے

وہ سرد شام میں چھپتا ہوا نحیف بدن
کہیں ملا تو اسے آگ کا بنائیں گے

طریر خاک اڑائیں گے اپنی مٹی سے
اور اسم پڑھ کے اسے فاختہ بنائیں گے

مٹائیں گے کبھی فرق نبود و بود جہاں
اور اک جہان کو بنتا ہوا بنائیں گے

عثمان علوی

عثمان علوی

حافظ آباد, پاکستان