حکمرانی صرف اکثریت پر موقوف نہیں ہوتی!!!

ایک اردو تحریر از ابو خالد قاسمی

آج ہم مسلمان جس نازک اور پیچیدہ حالات سے گزر رہے ہیں، شاید ہمارے اسلاف نے بھی اس کی ایسی تصویر کبھی نہ دیکھی ہوگی، اور نہ ہی ہم نے اس کا تصور کیا تھا۔ بلا شبہ یہ صورتِ حال ہمارے اپنے اعمال، کمزوریوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔

برصغیر کی آزادی کے بعد بظاہر ہم نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک نئی قسم کی غلامی کو خود اپنے اوپر مسلط کر بیٹھے۔ انگریزوں کے تسلط سے نکلنے کے باوجود ہم نے دوسروں پر اندھا اعتماد کرکے اپنی فکری و عملی آزادی کو محدود کرلیا۔ نتیجتاً ہم ذہنی غلامی، خوف، بزدلی اور کمزوری کا شکار ہوگئے، جو آہستہ آہستہ ہماری رگ و پے میں سرایت کرگئی۔
ہم اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ حکمرانی کے لیے صرف عددی اکثریت ضروری ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تاریخ کا غیر جانبدار مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اقتدار ہمیشہ ان لوگوں کے ہاتھ میں رہا ہے جن کے پاس قوت، صلاحیت، حکمت عملی اور دوراندیشی تھی— نہ کہ صرف تعداد کی کثرت۔
اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے "دو قومی نظریہ” کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ:
ہم (مسلمان) اس ملک کے اصل وارث ہیں۔ ہم ہندوؤں کو الگ ریاست کیوں دیں؟ یہ ان کا حق نہیں۔ یہ پورا خطہ ہمارا ہے۔ اکثریت اور اقلیت کی بحث بے معنی ہے، کیونکہ مسلمان کبھی بھی عددی اعتبار سے اکثریت میں نہیں رہے، اس کے باوجود انہوں نے صدیوں تک حکومت کی— اور یہ حکومت تعداد کی بنیاد پر نہیں بلکہ قوت اور بصیرت کی بنیاد پر تھی۔
(حصولِ آزادی میں علماء کا کردار، ص: ۷)

اسلامی نظامِ حکمرانی کی بنیاد بھی یہی ہے کہ قیادت اور اقتدار کا دار و مدار صرف تعداد پر نہیں بلکہ اہلیت، قوتِ فیصلہ اور بصیرت پر ہوتا ہے۔ مدینہ منورہ کی ریاست اس کی روشن مثال ہے، جہاں رسول اللہ ﷺ نے میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف اقوام کو ایک قیادت کے تحت متحد کیا، حالانکہ مسلمان اس وقت تعداد میں کم تھے۔
غزوۂ بدر اس حقیقت کا عظیم شاہد ہے، جہاں صرف ۳۱۳ مسلمانوں نے ایک بڑے لشکر کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔ یہ فتح نہ تعداد کی وجہ سے تھی اور نہ ہی وسائل کی کثرت کی بنا پر، بلکہ یہ ایمان، عزم، حکمت اور اللہ پر کامل اعتماد کا نتیجہ تھی۔
یہ سوچ کہ "ہمارے پاس کچھ نہیں اور دوسروں کے پاس سب کچھ ہے” دراصل کمزوری اور بزدلی کی علامت ہے۔ کامیابی کے لیے صرف وسائل کافی نہیں ہوتے، بلکہ حوصلہ، عزم اور مضبوط ارادہ بھی ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ہر باب اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ مسلمان اکثر تعداد اور وسائل میں کم تھے، لیکن اپنے ایمان اور استقامت کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔

عصرِ حاضر میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں:
افغانستان میں ۲۰۰۱ء میں دنیا کی بڑی طاقتوں نے طالبان حکومت کو ختم کردیا، مگر محدود وسائل کے باوجود وہی طالبان ۲۰۲۱ء میں انہی طاقتوں کو پسپائی پر مجبور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

شام میں اسد خاندان کی حکومت ۱۹۷۱ء سے جاری رہی، مگر دسمبر ۲۰۲۴ء میں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ یہاں بھی مسئلہ تعداد کا نہیں بلکہ عزم، حالات اور مقابلہ کرنے والوں کی جرأت کا تھا۔
لہٰذا اگر ہم واقعی اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔ اپنی سوچ کو درست کرنا ہوگا، اپنی کمزوریوں کو پہچاننا ہوگا، اور اپنی قوت کو بڑھانا ہوگا۔ صرف دعاؤں پر اکتفا کرنا کافی نہیں— دعا کے ساتھ عمل، حکمت اور جدوجہد بھی ضروری ہے۔ اگر صرف دعا ہی کافی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ میدانِ عمل میں جدوجہد نہ فرماتے۔
ہمیں دوسروں کی غلامی، خوشامد اور اندھی تقلید کو ترک کرنا ہوگا۔ ہم نے دوسروں پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا، مگر اس کے بدلے ہمیں دھوکہ، ناانصافی اور محرومیوں کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا— جیسے بابری مسجد کا مسئلہ، این آر سی، ڈی ووٹر، کیمپوں کی اذیتیں، فسادات اور مذہبی معاملات میں مداخلت وغیرہ۔
اگر مسلمان اب بھی اپنی سیاسی، سماجی اور فکری قیادت تیار نہ کریں تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ یہ سوچنا کہ "صرف حکومت بدلنے سے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا” ایک بڑی غلط فہمی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔
(سورۂ رعد: ۱۱)

جمہوریت میں بظاہر اکثریت کو اہمیت دی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف تعداد ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔ اگر کوئی قوم میدان میں اترنے، محنت کرنے، قیادت پیدا کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا عزم کرلے تو حالات ضرور بدل سکتے ہیں. ان شاء اللہ۔
ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے، مگر ضروری یہ ہے کہ ہم حقیقت کو سمجھیں، خود کو بدلیں، اور اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔

ابو خالد قاسمی
استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ غازی آباد ۔

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔