مصنوعی ذہانت بمقابلہ ’گھریلو‘ انٹیلی جنس: بیگم اور AI کا ٹیکنالوجی ٹکراؤ
دنیا پریشان ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) انسانیت کو پیچھے چھوڑ دے گی، لیکن مشرقی مرد کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ وہ صدیوں سے ایک ایسی "گھریلو انٹیلی جنس” کے زیرِ اثر ہے جو چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) سے ہزار گنا زیادہ تیز، گوگل میپس سے زیادہ باخبر اور کسی بھی سپر کمپیوٹر سے زیادہ ڈیٹا محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یعنی "بیگم”۔
اگر AI ایک عالمی پروڈکٹ ہے، تو بیگم ایک "یونیورسل باس” ہے۔ آئیے ان دونوں کا ایک مزاحیہ موازنہ کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اصل "سسٹم” کون چلا رہا ہے۔
1. سافٹ ویئر اپ ڈیٹس: الگورتھم بمقابلہ ’تیوری‘
AI کا سافٹ ویئر انٹرنیٹ سے اپ ڈیٹ ہوتا ہے، جسے "ورژن” کہتے ہیں۔ بیگم کا سافٹ ویئر "موڈ” (Mood) سے اپ ڈیٹ ہوتا ہے، جسے صرف شوہر کی "تیوری” دیکھ کر پہچانا جا سکتا ہے۔
جب AI ہینگ ہوتا ہے تو اسکرین نیلی ہو جاتی ہے، لیکن جب بیگم کا سافٹ ویئر (موڈ) ہینگ ہوتا ہے تو شوہر کے سامنے آسمان نیلا پیلا ہونے لگتا ہے۔ AI کو ری بوٹ (Reboot) کرنے کے لیے ری سٹارٹ کا بٹن دبانا پڑتا ہے، جبکہ بیگم کو ری بوٹ کرنے کے لیے کسی ڈیزائنر سوٹ یا "باہر ڈنر” کا بٹن دبانا پڑتا ہے۔
محاورہ ہے کہ "ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور”، بالکل اسی طرح AI کے جوابات دکھانے کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ بیگم کے جوابات "سمجھنے” کے لیے ہوتے ہیں۔
2. بچے: ملٹی ٹاسکنگ گیجٹس اور ’ڈیٹا پروسیسرز‘
اگر بیگم "مین فریم کمپیوٹر” ہے، تو بچے وہ "سمارٹ گیجٹس” ہیں جو گھر کے نیٹ ورک پر وائی فائی کی طرح مفت ڈیٹا چوستے ہیں۔ روبوٹ کے گیجٹس تو صرف حکم مانتے ہیں، لیکن بیگم کے یہ گیجٹس (بچے) ایسی "ڈیٹا پروسیسنگ” کرتے ہیں کہ شوہر کی ہر خفیہ بات بیگم تک پہنچا دیتے ہیں۔
یہ بچے وہ گیجٹس ہیں جو "گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے” کی عملی تصویر ہیں۔ آپ AI کو "میوٹ” (Mute) کر سکتے ہیں، لیکن ان گیجٹس کی والیم صرف "آئس کریم” کے اینٹی وائرس سے ہی کچھ دیر کے لیے کم ہوتی ہے۔
3. سسرال: دی بگرز (The Critical Debuggers)
ٹیکنالوجی میں ڈی بگر (Debugger) وہ ہوتا ہے جو کوڈ کی غلطیاں ڈھونڈتا ہے۔ بیگم نامی سسٹم کے ڈی بگرز اس کے "میکے والے” ہیں۔
ساس، سالی اور سالے وہ ہائی لیول کے ڈی بگرز ہیں جو شوہر نامی غریب سافٹ ویئر میں سے وہ "بگ” (Bug) بھی نکال لیتے ہیں جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ہوتا۔
ان کا کام سسٹم کو ٹھیک کرنا نہیں، بلکہ سسٹم (شوہر) کو یہ بتانا ہے کہ "بی بی! تمہارا ورژن تو بہت اعلیٰ تھا، یہ ہارڈ ویئر (شوہر) ہی پرانا اور ناقص مل گیا”۔ یہاں وہ ضرب المثل صادق آتی ہے کہ "مان نہ مان، میں تیرا مہمان”، کیونکہ یہ ڈی بگرز بن بلائے ہی سسٹم کی صفائی شروع کر دیتے ہیں۔
4. سرچ ہسٹری اور یاداشت (Memory Units)
AI کی یاداشت "ٹیرا بائٹس” میں ہوتی ہے، لیکن بیگم کی یاداشت "قیامت بائٹس” میں ہوتی ہے۔ AI کو کچھ یاد دلانا پڑتا ہے، جبکہ بیگم کو 2012 کی وہ دوپہر بھی یاد ہے جب آپ نے ان کی کسی دور کی کزن کی تعریف کی تھی۔
AI کی ہسٹری ڈیلیٹ کی جا سکتی ہے، بیگم کی میموری میں "ڈیلیٹ” کا بٹن مینوفیکچرنگ کے دوران ہی نکال دیا گیا تھا۔ شوہر کے لیے محاورہ ہے کہ "رسی جل گئی پر بل نہ گیا”، یعنی شوہر بوڑھا ہو جائے گا پر بیگم کی یاداشت سے پرانے طعنوں کے "بل” نہیں جائیں گے۔
5. وائرس اٹیک: سہیلیوں کا ’میل ویئر‘
AI پر وائرس حملہ کرے تو سسٹم سلو ہو جاتا ہے۔ بیگم پر جب "سہیلیوں کے مشوروں” کا وائرس (Malware) حملہ کرتا ہے، تو گھر کا بجٹ سلو اور فرمائشیں فاسٹ ہو جاتی ہیں۔
سہیلیاں وہ وائرس ہیں جو بیگم کے سسٹم میں "فلانی کا نیا زیور” اور "دھمکانی کا غیر ملکی دورہ” اپ لوڈ کر دیتی ہیں۔ اس کے بعد شوہر کی سیکیورٹی فائر وال کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، "کریڈٹ کارڈ” کا سسٹم کریش ہونا یقینی ہے۔
6. ٹربل شوٹنگ: ’خاموشی‘ کی تھراپی
جب AI میں کوئی بڑی خرابی آئے تو وہ "ایرر 404” (Error 404) دکھاتا ہے۔ جب بیگم کے سسٹم میں ٹربل شوٹنگ کی ضرورت ہو، تو وہ "خاموشی” (Silent Treatment) کا ایرر کوڈ استعمال کرتی ہیں۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں شوہر کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ "ادھر ڈوبے یا ادھر ڈوبے”۔ اس خاموشی کے وائرس کا واحد اینٹی وائرس "جیولری” یا "شاپنگ مال” کا دورہ ہے۔
حاصلِ کلام
ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی کر جائے، AI کبھی بیگم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ AI صرف وہ بتاتا ہے جو اسے سکھایا گیا ہے، بیگم وہ بھی جان لیتی ہے جو شوہر نے ابھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔
روبوٹ کو بجلی چاہیے، بیگم کو "توجہ” اور "تعریف” کا وولٹیج چاہیے۔ روبوٹ کا ریموٹ آپ کے ہاتھ میں ہو سکتا ہے، لیکن شوہر کا ریموٹ ہمیشہ بیگم کے پاس ہوتا ہے، جسے وہ "انگلیوں پر نچانا” کہتے ہیں۔
چنانچہ ثابت ہوا کہ: "مصنوعی ذہانت (AI) تو صرف ایک مشین ہے، اصل انٹیلی جنس تو وہ ہے جو جیب خالی ہونے کے باوجود شوہر سے ’شکریہ‘ بھی کہلوا لے!” جیسا کہ کہا گیا ہے: "بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی”، یعنی شوہر اگر بیگم کے سسٹم سے بچ کر نکل جائے تو وہی اس کی سب سے بڑی جیت ہے!
اکرم ثاقب