سکرین سے باہر کی دُنیا

محسن خالد محسنؔ کی ایک اردو تحریر

اذان شہر کا ایک ذہین مگر سُست لڑکا تھا۔ سُست اس لیے نہیں کہ وہ پڑھ نہیں سکتا تھا بلکہ اس لیے کہ اس کی دُنیا ایک چھوٹی سی سکرین میں سمٹ گئی تھی۔ موبائل اس کے ہاتھ میں ایسے چِپکا رہتا جیسے "چمگادڑ دیوار سے چِپک جائے”۔ صبح آنکھ کھلتے ہی وہ موبائل دیکھتا اور رات کو اسی کے ساتھ سو جاتا۔ اس کی ماں اکثر کہتی، "بیٹا! یہ موبائل تمہاری آنکھوں کا نور کھا جائے گا،کچھ دیر باہر بھی نکلو اور باہر کی دُنیا دیکھو۔” مگر اذان کے کان پر جُوں تک نہ رینگتی۔
ایک دن اس کے ابو نے سختی سے کہا:”بس بہت ہو گیا! اب ہم چند دن کے لیے گاؤں جا رہے ہیں۔” اذان کا منہ ایسے لٹک گیا جیسے "بارش میں بھیگا ہوا کوا”۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ گاؤں جا کر وہ کیا کرے گا,وہاں نہ وائی فائی ہوگا نہ دوست۔
اگلے دن وہ لوگ گاؤں پہنچے۔ گاؤں کا منظر اذان کے لیے بالکل نیا تھا۔ دور دور تک سبز کھیت ایسے پھیلے تھے جیسے زمین نے سبز چادر اوڑھ رکھی ہو, درختوں پر پرندے چہچہا رہے تھے، ہوا میں مٹی کی خوشبو تھی اور آسمان صاف تھا جیسے دُھو کر رکھا گیا ہو۔
لیکن اذان کو یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے موبائل نکالا مگر سگنل نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس نے غصے سے کہا: "یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے!” اس کے ابو مسکرائے اور بولے: "بیٹا! یہاں سب کچھ ہے، بس دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔”
اسی دوران اذان کا دیہاتی کزن عثمان ان کے پاس آیا۔ وہ سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا لیکن اس کے چہرے پر ایسی چمک تھی جیسے صبح کی پہلی کرن۔ اس نے اذان کو کھیلنے کی دعوت دی۔ اذان نے پہلے تو ناک بھوں چڑھائی، پھر دل بہلانے کے لیے اس کے ساتھ چل پڑا۔
عثمان اسے کھیتوں کی طرف لے گیا۔ وہ ننگے پاؤں مٹی پر چل رہا تھا جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے۔ اذان کو شروع میں مٹی پر چلنا عجیب لگا کچھ دیر بعد اسے مزہ آنے لگا۔ ہوا کے جھونکے اس کے چہرے کو ایسے چھو رہے تھے جیسے ماں پیار سے تھپکی دے رہی ہو۔
عثمان نے اسے ایک درخت پر چڑھنا سکھایا۔ اذان پہلے تو ڈر گیا لیکن عثمان نے کہا:”ڈر کے آگے جیت ہے!” اذان نے ہمت کی اور آہستہ آہستہ اوپر چڑھ گیا۔ اوپر پہنچ کر اس نے نیچے دیکھا تو اسے لگا جیسے وہ پرندہ بن کر آسمان میں اڑ رہا ہو۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی خوشی پیدا ہوئی۔
پھر وہ دونوں ندی کے کنارے گئے۔ پانی شفاف تھا اور اس میں مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ اذان نے ہاتھ ڈال کر پانی کو چھوا تو اسے ایسا لگا جیسے ٹھنڈی ہوا نے اس کے دل کو چھو لیا ہو۔ وہ ہنسنے لگا، کھیلنے لگا اور وقت کے بیتنے کا پتہ ہی نہ چلا۔
اگلے دن عثمان اسے پہاڑوں کی طرف لے گیا۔ راستہ مشکل تھا، جگہ جگہ پتھر تھے اور چڑھائی تھکا دینے والی تھی۔ اذان کے پاؤں دُکھنے لگے، سانس پھول گئی اور وہ بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: "میں نہیں چل سکتا!” عثمان نے مُسکرا کر کہا: "محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے، ہمت نہ ہارو۔”
اذان نے دوبارہ کوشش کی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا رہا۔ جب وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو اس کے سامنے ایسا منظر تھا کہ اس کی آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئیں۔ نیچے سبز وادیاں، دور تک بہتا دریا اور اوپر نیلا آسمان، سب کچھ ایسا لگ رہا تھا جیسے قدرت نے ایک خوبصورت تصویر بنا دی ہو۔
اذان نے گہرا سانس لیا اور کہا: "واہ! یہ تو بہت خوبصورت ہے!” عثمان نے ہنستے ہوئے کہا: "یہی تو اصل زندگی ہے!”
اسی دوران انھوں نے ایک بوڑھے چرواہے کو دیکھا جو اپنی بکریوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے سادہ تھے لیکن چہرے پر سُکون تھا۔ اذان نے اس سے پوچھا:”آپ کو یہاں اکیلے رہ کر بوریت نہیں ہوتی؟” چرواہے نے مُسکرا کر کہا: "بیٹا! جس کے پاس دل کا سکون ہو، اسے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔”
یہ بات اذان کے دل میں اُتر گئی جیسے پانی زمین میں جذب ہو جاتا ہے۔
چند دنوں میں اذان بدل گیا۔ اب وہ صبح جلدی اُٹھتا، سورج نکلتا دیکھتا، پرندوں کی آوازیں سُنتا اور عثمان کے ساتھ کھیلتا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ جس دُنیا میں قید تھا، وہ تو ایک "سنہری پنجرہ” تھی جبکہ اصل آزادی اس کے باہر تھی۔
چھٹیاں ختم ہوگئیں،شہر واپسی کا دن آیا تو اذان کا دل بھاری ہو گیا۔ اس نے عثمان کو گلے لگایا اور کہا: "میں دوبارہ آؤں گا!” اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جیسے بادل برسنے کو تیار ہوں۔
شہر واپس آ کر اذان نے موبائل کا استعمال کم کر دیا۔ اب وہ پارک میں جاتا، درختوں کے نیچے بیٹھتا اور فطرت کا لطف اُٹھاتا۔ اس نے اپنے دوستوں کو بھی بتایا: "زندگی صرف سکرین میں نہیں، بلکہ اس کے باہر ہے۔”
اذان نے سیکھ لیا تھا کہ دُور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں لیکن اصل خوشی قریب ہی ہوتی ہے، بس اسے دیکھنے کی خواہش ہونی چاہیے ۔
اذان نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ زندگی وہی خوبصورت ہے جو سکرین سے باہر ہے۔

محسن خالد محسنؔ

محسن خالد محسن

محمد محسن خالد (محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے"،دُھند میں لپٹی شام اور"ت لاش" شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے کلاسیکی غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) 2024 میں کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔