ہماری ضِد ہے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

ہماری ضِد ہے، انا بھی ہے، انتقام بھی ہے
سُہانی صُبح، مہکتی سی ایک شام بھی ہے

وگرنہ بزم سے کب کا اُٹھا دِیئے جاتے
تبھی تو بیٹھے ہو شامل تُمہارا نام بھی ہے

بہارِ گلشنِ خُوش رنگ اب عُرُوج پہ ہے
خُوشی ہے ساتھ مِرے میرا خُوش خرام بھی ہے

لُٹا ہی بیٹھے گا اِک روز سب کمائی بھی
رکھی ہے منہ میں جو اِک چِیز بے لگام بھی ہے

سلِیقہ کیا ہے کہ طُوفانِ بد تمِیزی ہے
ارے بڑوں کا ادب، کوئی اِحترام بھی ہے؟

کِیا ہُؤا ہے بہت اِہتمام مانتے ہیں
مگر بتاؤ کوئی اِنتظامِ جام بھی ہے؟

رشِید بِیچ میں جو فاصلہ تھا ہے قائِم
مُحِیط صدیوں پہ، ہر چند چند گام بھی ہے

رشِید حسرتؔ

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔