گرمیٔ موسمِ گرما

ایک اردو تحریر از ابو خالد قاسمی

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو کائنات کا انتظام فرمانے والا، زمانوں اور اوقات کو بدلنے والا ہے۔ وہ عظمت اور اقتدار والا ہے۔

محترم قارئین!
ان دنوں ہم موسمِ گرما کی شدید تپش اور جھلسا دینے والی دھوپ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی گرمی جسموں کو پگھلا دینے والی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اہلِ بصیرت کے لیے اس شدید گرمی میں اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیاں، نصیحتیں اور عبرتیں پوشیدہ ہیں۔

بہت سے لوگ اس گرمی کی حقیقت سے واقف نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کی حقیقت بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے میرے رب! میرا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھا رہا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی؛ ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔ لہٰذا تم جس شدید گرمی کو محسوس کرتے ہو وہ جہنم کے گرم سانس کا اثر ہے، اور جس سخت سردی کو محسوس کرتے ہو وہ اس کے زمہریر (شدید سرد حصے) کا اثر ہے۔

ایک دوسری روایت میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جب گرمی بہت زیادہ ہو جائے تو نماز کو کچھ ٹھنڈا ہونے تک مؤخر کر لیا کرو، کیونکہ سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔

سوچئے! جس گرمی کو ہم برداشت نہیں کر پاتے، جس سے بچنے کے لیے سایہ اور ٹھنڈا پانی تلاش کرتے ہیں، وہ تو جہنم کی صرف ایک سانس ہے۔ پھر خود جہنم کی گرمی کیسی ہوگی؟

بعض سلف صالحین فرمایا کرتے تھے کہ اگر اہلِ جہنم کو جہنم سے نکال کر دنیا کی آگ میں ڈال دیا جائے تو وہ اسے ٹھنڈی محسوس کریں گے اور برسوں تک اسی میں آرام سے رہیں گے۔

آخرت کی آگ کی ہولناکی اور اس کی شدت
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تمہاری یہ دنیا کی آگ، جسے انسان بھڑکاتے ہیں، جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے صرف ایک حصہ ہے۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہی آگ تو (عذاب کے لیے) کافی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جہنم کی آگ کو اس پر انہتر حصوں کی برتری دی گئی ہے، اور ان میں سے ہر حصہ اسی دنیا کی آگ جیسی حرارت رکھتا ہے۔ (بخاری، مسلم)

جب دنیا کی آگ، جس کی تپش انسان برداشت نہیں کر پاتا، جہنم کی آگ کا صرف سترواں حصہ ہے، تو خود جہنم کی آگ کی شدت اور ہولناکی کا کیا عالم ہوگا، جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں اور نافرمانوں کے لیے تیار فرمایا ہے؟

سلفِ صالحین کا حال یہ تھا کہ جب وہ ٹھنڈا پانی پیتے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے اور انہیں اہلِ جہنم کی وہ حسرت یاد آ جاتی، جب وہ اہلِ جنت سے فریاد کریں گے:
ہم پر کچھ پانی ڈال دو یا اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے، اس میں سے کچھ ہمیں بھی دے دو۔ (سورۂ اعراف: 50)

اسی طرح جب گرمیوں کی تیز اور جھلسا دینے والی ہوائیں ان کے جسموں سے ٹکراتیں تو وہ اپنے دل میں کہتے: اگر یہ صرف جہنم کی ایک سانس کا اثر ہے، تو پھر خود جہنم کی آگ کی شدت کیسی ہوگی!

موسمی تغیرات اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی

محترم قارئین!
ان دنوں ہم ایسے موسمی حالات کا مشاہدہ کر رہے ہیں جن کی مثال ماضی میں بہت کم ملتی ہے۔ شدید گرمی کی لہروں نے یورپ جیسے خطے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جو ہمیشہ معتدل آب و ہوا کے لیے مشہور رہا ہے۔ فرانس، اسپین، اٹلی اور برطانیہ میں درجۂ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک بلکہ اس سے بھی تجاوز کر گیا۔ اسی طرح ایشیا کے متعدد ممالک، جیسے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، میانمار (برما) اور افغانستان وغیرہ بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ اس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے، سخت طبی انتباہات جاری کیے گئے، اور اقوامِ متحدہ کی مختلف رپورٹیں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ مستقبل میں درجۂ حرارت مزید نئے ریکارڈ قائم کر سکتا ہے۔

کیا ان واقعات اور بدلتے حالات میں اہلِ عقل کے لیے کوئی عبرت نہیں؟ کیا ان علاقوں میں، جو کبھی ٹھنڈے سمجھے جاتے تھے، شدید گرمی کی وجہ سے لوگوں کی اموات اس عظیم دن کی یاد دہانی نہیں کراتیں، جب انسان میدانِ حشر میں اپنے رب کے حضور کھڑا ہوگا؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
جس دن ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ (سورۂ نور: 24)

حضرت مقداد بن اسودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قیامت کے دن سورج مخلوق کے اتنا قریب کر دیا جائے گا کہ وہ صرف ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔ پھر لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبے ہوں گے؛ کسی کا پسینہ ٹخنوں تک ہوگا، کسی کا گھٹنوں تک، کسی کا کمر تک، اور بعض ایسے ہوں گے جنہیں پسینہ پوری طرح ڈھانپ لے گا۔ (مسلم)

لہٰذا اے وہ شخص! جو دنیا کی چند لمحوں کی گرمی بھی برداشت نہیں کر سکتا، ذرا سوچ کہ اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب قیامت کے دن سورج سروں کے بالکل قریب آ جائے گا اور میدانِ حشر میں طویل انتظار کرنا پڑے گا۔

گرمی مؤمن کے لیے غنیمت ہے، رکاوٹ نہیں
کیا گرمی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ ہے؟ یا اہلِ ایمان اسے نیکی کمانے کا ایک سنہری موقع ؟
جب حضرت معاذ بن جبلؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہیں نہ مال و دولت کا افسوس تھا اور نہ اولاد کا، بلکہ انہیں اس بات کا غم تھا کہ اب وہ راتوں کا قیام، اہلِ علم کی مجلسوں میں زانو بہ زانو بیٹھ کر علم حاصل کرنا، اور سخت گرمی کے دنوں میں روزہ رکھ کر پیاس برداشت کرنے جیسی عظیم عبادتوں سے محروم ہو جائیں گے۔

حضرت ابو الدرداءؓ اپنے ساتھیوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے:
گرمی کے سخت دنوں میں روزہ رکھا کرو تاکہ قیامت کے دن کی گرمی سے بچ سکو، اور رات کی تاریکی میں دو رکعت نماز پڑھا کرو تاکہ قبر کی تاریکی کے لیے سامان ہو جائے۔

حضرت ابو الدرداءؓ ہی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ سخت گرمی کا دن تھا، یہاں تک کہ گرمی کی شدت کے باعث لوگ اپنے سروں پر ہاتھ رکھ لیتے تھے۔ اس دن ہم میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کے سوا کوئی روزے سے نہ تھا۔

جتنی زیادہ مشقت ہوتی ہے، اتنا ہی زیادہ اجر بھی ہوتا ہے، کیونکہ اجر مشقت کے بقدر ہوتا ہے۔ شاید یہ سخت گرمی ہمیں اس عظیم منظر کی یاد دلانا چاہتی ہے، جب لوگ میدانِ حشر سے اپنے اپنے انجام کی طرف روانہ ہوں گے؛ ایک جماعت جنت کی طرف اور دوسری جہنم کی طرف۔

قیامت جمعہ کے دن قائم ہوگی، اور اس دن دوپہر ہونے سے پہلے ہی اہلِ جنت اپنی جنت کی نعمتوں میں آرام کر رہے ہوں گے اور اہلِ جہنم اپنے ٹھکانے میں پہنچ چکے ہوں گے۔ اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا ہے:
اس دن جنت والے بہترین ٹھکانے میں ہوں گے اور نہایت عمدہ آرام گاہ میں۔ (سورۂ فرقان: 24)

شدید گرمی میں نیکی اور پانی پلانے کا عمل ۔
انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ جلد اکتا جاتا ہے، اور اس کی نادانی یہ ہے کہ وہ کسی ایک حالت پر راضی نہیں رہتا۔ چنانچہ کسی شاعر نے خوب کہا ہے:
يتمنى المرء في الصيف الشتاء
فإذا جاء الشتاء أنكره
فهو لا يرضى بحال واحد
قتل الإنسان ما أكفره

گرمی میں وہ سردیوں کی آرزو کرتا ہے،
اور جب سردی آتی ہے تو اسی سے بیزار ہو جاتا ہے۔
وہ کسی ایک حالت پر کبھی راضی نہیں رہتا،
انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔

لیکن ایک سمجھ دار مؤمن گرمی کی شدت پر بار بار شکوہ نہیں کرتا، بلکہ اسے نیکی کمانے کا موقع سمجھتا ہے، خصوصاً ایسے اعمال اختیار کرتا ہے جن کی اس موسم میں زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
ان اعمال میں سب سے اہم یہ ہیں کہ لوگوں کے لیے سایہ فراہم کیا جائے، پیاسوں کو پانی پلایا جائے، خواہ وہ فقیر ہوں یا نہ ہوں، بلکہ جانوروں اور پرندوں کو بھی پانی پلایا جائے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر جاندار کو پانی پلانے میں اجر و ثواب ہے۔

خلیفۂ راشد حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
ایمان کی چند اہم خصلتوں کو مضبوطی سے اختیار کرو: گرمی کے موسم میں روزہ رکھنا، اللہ کے دشمنوں کے مقابلے میں جہاد کرنا، اور سردی کے دنوں میں اچھی طرح وضو کرنا۔

سورج بھی سجدہ کرتا ہے، پھر تکبر کیسا؟
یہ عظیم الشان سورج، اپنی بے پناہ جسامت اور جھلسا دینے والی حرارت کے باوجود اہلِ بصیرت کے لیے ایک عظیم عبرت ہے۔ وہ ہر روز اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور اپنے رب کا پوری فرمانبرداری اور عاجزی کے ساتھ حکم مانتا ہے۔

حضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سورج غروب ہونے کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:
کیا تم جانتے ہو کہ سورج کہاں جاتا ہے؟
میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا:
وہ جاتا ہے یہاں تک کہ عرشِ الٰہی کے نیچے سجدہ کرتا ہے، پھر طلوع ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے، تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ وہ سجدہ کرے گا مگر اس کا سجدہ قبول نہیں کیا جائے گا، اور اجازت طلب کرے گا مگر اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سے کہا جائے گا: ‘جہاں سے آئی ہو وہیں لوٹ جاؤ۔’ چنانچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگی۔ یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مفہوم ہے:
اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے، یہ زبردست، خوب جاننے والے اللہ کی مقرر کی ہوئی تقدیر ہے۔ (سورۂ یٰس: 38)

جب اتنی عظیم مخلوق، یعنی سورج، ہر روز اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے، تو پھر بعض انسان اپنے پروردگار کے سامنے سجدہ کرنے سے تکبر کیوں کرتے ہیں، اس سے پہلے کہ وہ وقت آ جائے جب انہیں سجدہ کرنے کی دعوت دی جائے گی مگر وہ سجدہ نہ کر سکیں گے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور انہیں سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا، تو وہ سجدہ نہ کر سکیں گے۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ذلت ان پر چھا رہی ہوگی، حالانکہ دنیا میں جب وہ صحیح سلامت تھے تو انہیں سجدہ کرنے کے لیے بلایا جاتا تھا۔ (سورۂ قلم: 42-43)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہیں کرتے۔ (سورۂ مرسلات: 48)

لہٰذا اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرتے رہو، اور اس شدید گرمی کو، جو سورج کی تپش سے تمہیں محسوس ہوتی ہے، اپنی آخرت کی یاد اور عبرت کا ذریعہ بناؤ۔ جب دنیا کی یہ گرمی، جو جہنم کی صرف ایک سانس ہے، اتنی ناقابلِ برداشت ہے، تو پھر قیامت کے دن جہنم کی اصل آگ کی شدت کیسی ہوگی؟
یہ بھی یاد رکھو کہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، ہمیشہ رہنے کی منزل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے، جبکہ اصل اور ہمیشہ کی زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، کاش! یہ لوگ جان لیتے۔ (سورۂ عنکبوت: 64)

پس ان قیمتی دنوں کو اللہ کی اطاعت میں گزارو، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرو، کیونکہ حقیقی عقل مند وہی ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے آنے والے کل (آخرت) کے لیے کیا سامان آگے بھیجا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمہارے تمام اعمال سے خوب باخبر ہے۔ (سورۂ حشر: 18)

ہم اللہ تعالی سے جہنم کی گرمی، عذابِ قبر، زندگی اور موت کے فتنوں، اور مسیح دجال کے شر سے پناہ مانگتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں جہنم کی آگ سے محفوظ فرما، اور اپنی بے پایاں رحمت سے ہمیں جنت میں داخل فرما، اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!

وضاحت شبہ :
سائنس کے مطابق سورج اور زمین کی قربت اور دوری موسم پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ حدیث میں آیا ہے کہ گرمی اور سردی جہنم کے سانسوں میں سے ہیں جیسا کہ اوپر گزرا ۔

جوابِ شبہ

پہلى بات:
جہنم کا اپنے رب سے شکایت کرنا عقل یا سائنس کے خلاف نہیں، کیونکہ یہ امورِ غیبیہ میں سے ہے جنہیں ہم دنیوی عقل یا سائنسی آلات کی بنیاد پر نہیں پرکھ سکتے۔
دوسری بات ۔
حدیث میں حضور نے ایک وجہ بیان فرمائی جو اس بات کی منافی نہیں کہ اس کی دوسری وجوہات بھی ہوں ۔
مزید تفصیل کے لیے انعام الباری دیکھیں ۔

ابو خالد قاسمی
خادم جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ کلچھینہ غازی آباد 

ابو خالد

نام ابو خالد، ولدیت ناظر الدین ۔ آسام ہندوستان سے تعلق ہے ۔ تعلیم: مادر علمی دار العلوم دیوبند سے حاصل کیا ۔ عمر ۔ ٢٥ سال ۔ احقر کے قلم سے بحمد اللہ قریب دس کتابیں منظر عام پر آئی ہیں ۔