ایک منظر سا ہوا کرتا تھا
دل سمندر سا ہو اکرتا تھا
چاند اور جھیل کے بیچ کہیں
کو ئی سندر سا ہوا کرتا تھا
لوح محفوظ پڑھا کرتے تھے
دل قلندر سا ہوا کرتا تھا
ہاں جوانی بھی ہو اکر تی تھی
من کا مندر بھی ہوا کرتا تھا
کتنے شفاف ہوا کرتے تھے
شیشہ اندر بھی ہوا کرتا تھا
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ