ایک منظر سا ہوا کرتا تھا

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کی ایک اردو غزل

ایک منظر سا ہوا کرتا تھا
دل سمندر سا ہو اکرتا تھا

چاند اور جھیل کے بیچ کہیں
کو ئی سندر سا ہوا کرتا تھا

لوح محفوظ پڑھا کرتے تھے
دل قلندر سا ہوا کرتا تھا

ہاں جوانی بھی ہو اکر تی تھی
من کا مندر بھی ہوا کرتا تھا

کتنے شفاف ہوا کرتے تھے
شیشہ اندر بھی ہوا کرتا تھا

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

نام۔ ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،،تمغہ ء امتیاز،، ولد حسان احمد بیگ پیدائش۔ 12 دسمبر1954 ء کوئٹہ۔۔ تعلیم۔پی ایچ ڈی اردو،، ایم اے سوشل ورک،۔ایم اے ہسٹری۔ ایم اے ایجو کیشن (ریٹائر پر وفیسر محکمہ تعلیم بلوچستان ہائر ایجوکیشن اینڈ کالجز ) وزیٹنگ پروفیسر بلوچستان یو نیو رسٹی کو ئٹہ۔ بیوٹم یو نیو رسٹی کو ئٹہ۔ کالم نگار، تجزیہ نگار، فیچررائٹر، ادیب، شاعر، محقق، ماہرتعلیم، مورخ، روز نامہ۔ مشرق 1975 ء تا 1988 ء۔ روز نامہ جنگ 1988 ء تا 2017 ء روز نامہ ایکسپریس 1918 ء تا حال روزنامہ دن لاہور روز نامہ پاکستان۔ پی ٹی وی۔ ریڈیو پاکستان کو ئٹہ۔ لاہور۔ راولپنڈی۔ اسلام آباد۔پرائیویٹ ٹی وی چینلز شائع شدہ کتب۔۔ تعدا د 18۔ 80 فیصد شائع شدہ کتب ایوارڈ یافتہ انعام یافتہ مکان نمبر 9-14/3 اسٹیورٹ روڈ کو ئٹہ