عورت

نعمان حیدر حامی کا ایک اردو مضمون

عورت ربِّ لم یزل کا وہ حسین شاہکار ہے جس کے وجود میں ایک پوری داستان پوشیدہ ہے۔ آپ جس لمحے بھی، جس زاویے سے بھی عورت کے وجود پر غور کریں، ہر بار ایک نئی سوچ، نیا ولولہ اور نیا مفہوم سامنے آتا ہے۔ عورت دنیا کی سب سے زیادہ کشش رکھنے والی تخلیق ہے۔ خدا نے اس کے وجود میں ایسی دلکشی رکھ دی ہے جو نہ صرف رنگ و روپ سے ماورا ہے بلکہ اس کی خوبیاں دلوں کو مسخر کر لیتی ہیں۔ جس دل نے عورت کو قبول کر لیا، اس کے لیے عورت خود بخود خوبصورت ہو جاتی ہے۔
عورت کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، جیسے عورت، زن، نساء وغیرہ، مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ بیشتر زبانوں میں عورت کے لفظ کے معنی ”چھپانے” سے جڑے ہوئے ہیں۔ یعنی ایسی ہستی جسے تحفظ میں رکھا جائے۔ بعض مقامات پر عورت کو کمزوری کے معنی میں بھی لیا جاتا ہے، مگر میرے نزدیک کمزوری سے مراد وہ نازک شے ہے جسے سنبھال کر رکھا جائے، نہ کہ حقیر سمجھا جائے۔ جو چیز نازک ہو، اسے چھپایا اور محفوظ کیا جاتا ہے—یہ کمزوری نہیں، نزاکت ہے۔
میرے نزدیک عورت کی تخلیق کا مقصد کائنات کو خوبصورتی عطا کرنا تھا، اور ساتھ ہی مرد کو ایک ایسی رفیقِ حیات دینا جو سکونِ قلب بھی ہو اور تسلسلِ حیات کا سبب بھی۔ مگر افسوس کہ ہم عورت کی اصل حیثیت اور اس کے حقیقی مقصد سے ناآشنا ہیں۔
علامہ اقبال نے عورت کو کائنات کی رنگینی قرار دیا، اور ان کے اشعار میں بھی ایک گہرا شعور پوشیدہ ہے:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
فریڈرک نطشے، انیسویں صدی کا جرمن فلسفی، شاعر اور ثقافتی نقاد، عورت کو خدا کی ”دوسری غلطی” قرار دیتا تھا۔ مگر تاریخ کا دلچسپ تضاد یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے آخری گیارہ سال دو عورتوں کے سہارے گزارے۔ خود کو طاقت کا پیامبر کہنے والا یہ شخص، عورت کو کمزور اور محتاج سمجھتا تھا، مگر عمر کے آخری حصے میں خود بے بس ہو کر عورت ہی کا محتاج بن گیا۔
سن 1889ء میں ٹورین کی ایک گلی میں گھوڑے پر ظلم ہوتے دیکھ کر نطشے گھوڑے سے لپٹ کر رو پڑا، اور اسی لمحے اس کی ذہنی حالت بگڑ گئی۔ وہ فالج کا شکار ہو گیا اور زندگی بھر صحت یاب نہ ہو سکا۔ ڈاکٹروں نے صاف کہا کہ اگر اسے زندہ رکھنا ہے تو دو عورتوں کی مسلسل دیکھ بھال ضروری ہوگی۔ یوں وہی عورت، جسے وہ کمزور کہتا تھا، اس کی زندگی کی ضامن بن گئی۔ آخرکار 1900ء میں وہ اس خدا کے حضور چلا گیا جسے وہ اپنی فلسفۂ حیات میں ”مردہ خدا” کہتا تھا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ عورت نہ صرف مرد کی زندگی کی ضرورت ہے بلکہ کائنات کے وجود کے لیے بھی لازم و ملزوم ہے۔ شاعری ہو، ناول ہو، محبت ہو یا حسن—انسانی تہذیب کی تقریباً ہر خوبصورت چیز عورت کے وجود سے جڑی ہوئی ہے۔ بلکہ خود انسان کا وجود بھی ایک عورت کا مرہونِ منت ہے۔
عورت معاشرے میں وہ کردار ادا کر سکتی ہے جو شاید مرد کے نصیب میں بھی نہ ہو۔ وہ نسلیں سنوار بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے۔ اگر عورت کو معاشرے کی استاد کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ تاریخ اس کی گواہ ہے۔
میرے نزدیک عورت ایک مقدس ہستی ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسے صرف جسم تک محدود کر دیا ہے۔ اگر عورت فحاشی کے بازار میں کھڑی ہے تو سوال یہ نہیں کہ وہ وہاں کیوں ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اس بازار کے گاہک کیوں بنتے ہیں؟ ہم اس کی عصمت کے خریدار کیوں بنتے ہیں؟ اگر معاشرہ چاہے تو پابندی، رہنمائی اور ہمدردی کے ذریعے اسے عزت کی راہ دکھا سکتا ہے، مگر ہم ایسا کرنا نہیں چاہتے۔
جب بھی عزت کا سوال آتا ہے، اس کا بوجھ ہمیشہ عورت کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟
کہا جاتا ہے کہ اگر مرد اور عورت کے مقدر کے ستارے مل جائیں تو خدا کے سوا کوئی انہیں جدا نہیں کر سکتا، کیونکہ محبت دلوں کی قبولیت کا نام ہے۔
مشہور کولمبین مصنف گابریئل گارشیا مارکیز اپنی زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کا شکار ہو گئے تھے۔ ایک دن ان کی اہلیہ نے ان سے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟” مارکیز نے جواب دیا: "میں یہ نہیں جانتا کہ تم کون ہو، مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔”
عورت دراصل محبت کا دوسرا نام ہے۔ مگر یہ اعزاز ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔
اللہ نے عورت میں عقل بھی رکھی ہے اور عشق بھی، اور مرد میں بھی یہی دونوں عناصر رکھے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ عورت اپنی عقل سے خود کو سنبھال لیتی ہے۔ شاید اسی لیے تاریخ میں عورت کی محبت میں خودکشی کی مثالیں کم ملتی ہیں، جبکہ مرد اس معاملے میں کمزور ثابت ہوتا ہے۔
یقیناً عورت ایک بہادر، مضبوط اور فطری لیڈر ہے، مگر معاشرتی بے توجہی اور نظراندازی نے اسے کمزور بنا دیا ہے۔
لیڈی گوڈیوا کی مثال آج تک زندہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے شوہر کی شرط پوری کرنے کے لیے خود کو ننگے ہو کر عزت کو قربان کیا تاکہ عوام کو ظالمانہ ٹیکس سے نجات ملے۔ چاہے یہ واقعہ حقیقت ہو یا روایت، عورت کی جرأت اور قربانی سے انکار ممکن نہیں۔۔
عورت وہ ہستی ہے جو کائنات کے وہ سب دکھ سہہ جاتی ہے جن کا تصور بھی ایک مرد شاید پوری شدت سے نہ کر سکے۔ وہ جتنی نازک دکھائی دیتی ہے، اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ اس کی قوت شور میں نہیں، خاموشی میں پنہاں ہوتی ہے۔ یہ کتنا عجیب المیہ ہے کہ جس معاشرے میں عورت زندگی کو جنم دیتی ہے، وہی معاشرہ اس کے لیے غلاظت بھرے الفاظ گھڑ لیتا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں، اگر گالی ماں اور بہن کے نام پر دی جا سکتی ہے تو پھر باپ اور بھائی کو کیوں اس سے مستثنیٰ سمجھا جاتا ہے؟ غلاظت اگر ہے تو اس کی ذمہ داری بھی برابر کی ہے۔
عورت کوئی گالی نہیں، کوئی کمزوری نہیں—وہ تو خود ایک مکمل کائنات ہے۔
اگر مرد، عورت کو صرف "عورت” سمجھ لے، ملکیت یا عزت کے تصور سے الگ ہو کر، تو شاید معاشرے میں فساد کی جڑیں خود بخود سوکھ جائیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ مرد کی نظر میں عورت کی عزت صرف انہی چند عورتوں تک محدود ہو جاتی ہے جو اس کے گھر کی چار دیواری میں سانس لیتی ہیں۔ باقی عورتیں جیسے انسان ہی نہیں ہوتیں۔ عورت جب دل شکستہ ہوتی ہے تو وہ راتوں کو سڑکوں پر نہیں نکل سکتی، وہ اپنے دکھ سگریٹ کے دھوئیں میں تحلیل نہیں کر سکتی۔ وہ اپنے غصے کو بھی کھل کر نہیں جتا سکتی، کیونکہ گھر کا سکون، گھر کی فضا—سب عورت ہی سے وابستہ کر دیے جاتے ہیں۔
وہ تو بس رات کا انتظار کرتی ہے، جب سب سو جائیں، اور وہ اپنے آنسوؤں کو تکیے کے حوالے کر دے۔ مرد کی دنیا اس کے بالکل برعکس ہے—اسے فرار کے کئی راستے میسر ہیں۔ معاشرے میں عورت کو ہمیشہ دبی ہوئی آواز سمجھا گیا ہے۔ نہ وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کر سکتی ہے، نہ اپنی مرضی سے جینے کا حق حاصل کر پاتی ہے۔
اسی تلخ حقیقت کو عصمت چغتائی نے ایک سادہ مگر گہری مثال کے ذریعے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ایک دن ان کی والدہ نے انہیں کھانا بنانا سکھانا چاہا۔ انہوں نے انکار کر دیا اور سوال اٹھایا کہ بھائی کھانا کیوں نہیں بناتے؟
ماں نے جواب دیا: "ان کی بیویاں آئیں گی، وہ بنا دیں گی۔”
عصمت نے فوراً کہا: "اگر وہ مر گئیں یا بھاگ گئیں تو پھر بھائی کیا کھائیں گے؟”
جب والد صاحب آئے اور گفتگو سنی تو بولے:
"بیٹی، سسرال جا کر کیا کرو گی؟ کیا وہاں کچھ نہیں پکاؤ گی؟”
عصمت نے پورے اعتماد سے جواب دیا:
"اگر امیر گھر میں شادی ہوئی تو باورچی رکھ لوں گی، اور اگر غریب گھر میں ہوئی تو کھچڑی بنا لوں گی—مگر میں کھانا بنانا نہیں سیکھوں گی۔”
باپ سمجھ گئے کہ بیٹی کا فیصلہ اٹل ہے۔ پوچھا: "پھر کیا کرو گی؟”
جواب آیا: "میرے سب بھائی پڑھتے ہیں، میں بھی پڑھوں گی۔”
عصمت چغتائی کے نزدیک عورت کے لیے تعلیم محض ایک سہولت نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ کیونکہ ایک غیر تعلیم یافتہ عورت اکثر عمر بھر اپنے شوہر سے جہالت اور نادانی کے طعنے ہی سنتی رہتی ہے۔ عصمت کا ماننا تھا کہ عورت کو خودمختار ہونا چاہیے، اسے اپنی مرضی کے مطابق جینے کا حق ملنا چاہیے۔ مگر یہ ظالم معاشرہ اس حق کو کب تسلیم کرے گا—یہ فیصلہ شاید وقت ہی کرے گا۔
عورت صرف دکھ سہنے والی ہستی نہیں، وہ مرد کی زندگی میں علاج بھی ہے۔
نفسیات میں Entrainment Theory کے مطابق انسان کتنا ہی پریشان کیوں نہ ہو، کتنی ہی مصیبتوں میں گھرا کیوں نہ ہو—ایک خاص آواز ایسی ہوتی ہے جو اس کے دل کی دھڑکن کو سکون میں بدل دیتی ہے، اس کی تھکن اتار دیتی ہے۔
میرے نزدیک مرد کی زندگی میں وہ آواز، عورت کی آواز ہوتی ہے۔
عورت ماں بن کر دعا ہے، بہن بن کر حوصلہ، بیوی بن کر رفاقت، اور بیٹی بن کر امید۔
عورت اگر کمزور ہوتی، تو یہ دنیا کبھی قائم نہ رہتی۔
مضمون کے سابقہ حصے میں عورت کی خوبصورتی پر بات ہو چکی ہے۔ بہت سے پہلو زیرِ بحث آ چکے ہیں، مگر ذرا یہ سوچو:
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شے خوبصورت ہو اور اس کی طلب رکھنے والا کوئی نہ ہو؟
یقیناً نہیں۔
پھر بازار کی مثال دیکھ لو۔ اگر کوئی نئی کوالٹی کا برانڈ آئے، کوئی چیز رکھی جائے جو خوبصورت بھی ہو، اعلیٰ خصوصیات کی حامل بھی ہو، تو کیا یہ ممکن ہے کہ اس کا کوئی خریدار نہ ہو؟
آپ کا جواب بھی یہی ہوگا: نہیں۔
بالکل اسی طرح کائنات کی تصویر میں عورت بھی ایک خوبصورت رنگ ہے۔ عورت ہو اور اس سے، یا اس کے وجود سے، کسی بشر کو محبت نہ ہو—یہ تو بالکل سفید ہاتھی والی بات ہے۔
انسان تو ویسے ہی جذبات کا حسین مجسمہ ہے، اور ان جذبات میں عورت اور مرد دونوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
یہ کہ زیادہ خطرناک جذبات کس کے ہوتے ہیں—میں اس بحث میں نہیں پڑتا، کیونکہ جذبات کو ٹھیس پہنچانا میرے نزدیک ایک نہایت گندی حرکت ہے۔ دل تو کعبہ ہوتا ہے؛ اسے گرانا نہیں، اس کی قدر کی جاتی ہے۔
جذبات سے یاد آیا، نطشے نے کہا تھا:
"In Revenge and In love woman is more barbaric then man is”
عورت کی حساسیت تو ہر کوئی جانتا ہے، مگر اس کے جذبات کی وحشت کو وہی سمجھ سکتا ہے جو اس تجربے سے گزر چکا ہو۔
جب عورت محبت کرتی ہے تو وہ روح کو روح سے جوڑتی ہے، جبکہ مرد اکثر جسمانی تعلق کے دائرے میں بندھا رہتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ جسمانی زخم سے کہیں زیادہ گہرا زخم روح کا ہوتا ہے۔
آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اگر عورت کسی مرد سے روحانی وابستگی چاہتی ہے تو اس کے جذبات کا زخم بھی اتنا ہی گہرا ہوگا۔
کیونکہ روح ہی جسم کی زندگی ہے—اور اگر روح نہ ہو تو جسم بے حس، بے حرکت، بالکل کسی بے جان شے کی مانند ہو جاتا ہے۔
اسی لیے جذبات سے جڑے بدلے میں عورت سے بچنا ہی بہتر ہے۔
جب مرد جسمانی طور پر عورت سے جدا ہوتا ہے تو اس کے سامنے کئی راستے کھلے ہوتے ہیں؛ وہ خود کو اچانک الگ کر سکتا ہے۔
مگر عورت—وہ جذبات کے قتل سے گزرتی ہے۔
اور جب عورت بدلہ لینے پر آتی ہے تو مرد دنیا کے محلات سے فٹ پاتھ پر،
محلات سے جھونپڑی میں،
اور کبھی محلات سے میخانے تک آ جاتا ہے۔
یہ سب کیسے ہوتا ہے؟
ذرا حوصلہ رکھیں… ابھی بتاتا ہوں۔
اتنی جلدی بھی کیا ہے؟
جب عورت بدلہ لیتی ہے تو وہ شور نہیں مچاتی—وہ خاموش ہو جاتی ہے۔
وہ اسی شخص کے سامنے خاموش ہو جاتی ہے جو اس کے لیے پانی کی خاطر سلطنت کا سودا کرنے کو تیار تھا۔
وہ اسے نظر انداز کر دیتی ہے۔
اور یہ نظراندازی ایسا گہرا زخم ہوتی ہے کہ انسان دوبارہ اپنے مقام تک نہیں پہنچ پاتا۔
یہ زخم اتنا گہرا ہوتا ہے کہ نہ وہ شخص خود کو پھر سے پا سکتا ہے،
اور نہ ہی وہ عورت کسی اور کی ہو پاتی ہے، یا کسی اور کو خود دے سکتی ہے۔
نظراندازی کے بعد المیہ یہ بھی ہے کہ وہ شخص اسے چھوڑ بھی نہیں پاتا۔
اسی لیے تو کہا گیا ہے:
"Man break bone in revenge but woman break soul.”
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
تمہاری قدر کرتا ہوں اس پر ناز مت کرنا
مجھے تم قتل کر دینا، نظر انداز مت کرنا

نعمان حیدر حامی

نعمان حیدر حامی

شاعر و کالم نگار- مضمون نویس- ملک نعمان حیدر حامی ، (اسلام آباد)