ایک چہرہ بدلنے والے کے نام

ایک اردو غزل از رشید حسرت

یہ مانا کہ روشن سِتارہ تِرا
اندھیروں میں جلتا ھُؤا میں دیّا

تِرے چارسُو زر کی جھنکار سی
مجھے نہ مُیسّر ھے دو وقت کی

تِری بات کا ھر کِسی کو لِحاظ
کرے کیوں نہ تُو اپنی قِسمت پہ ناز

مِرا سچ بھی سُولی پہ لٹکا رہے
تِرے جُھوٹ پر سب کو اثبات ھے

تِرے پاس بیٹھیں خُوشامد مِزاج
تِرے گُن جو گاتے ہیں اے دوست آج

مبادا ھُوں کل تُجھ سے بیزار یہ
پُجاری ہیں کُرسی کے سرکار یہ

تُو حلقے میں اِن کے ھے بیٹھا ھُؤا
تُو دانِش کا داعی تھا یہ کیا ھُؤا

تُجھے سنگ و پارس کی پہچان تھی
تِرے جِسم میں تو مِری جان تھی

شِکستہ سے کمرے میں جاڑے کے دِن
شب و روز مستی اکھاڑے کے دِن

سرِ رہ گذر بے سبب قہقہے
کہاں کھو گئے ہیں وُہ سب قہقہے

وُہ لُڈّو، وہ فِلمیں، وُہ شوخی، وہ بُھوک
کبھی یاد آئیں تو اُٹھتی ھے ھُوک

جو فُرصت مِلے تُجھ کو، ماضی میں جھانک
بدن برہنہ ھے، بدن اپنا ڈھانک

اگر یاد ھو، تُو بھی مزدُور تھا
کہ افلاس کے ہاتھوں مجبُور تھا

جو بُھولا ھُؤا ھے وُہ سب یاد کر
مِرے دوست کو خُود سے آزاد کر

اگر وقت کے ہاتھوں لاچار ھُوں
تو اِتنا بتا دُوں کہ خُود دار ھُوں

تِری بات میں تُرش لہجہ تِرا
بڑا بھید جِیون کا مُجھ پر کُھلا

غرِیبی، امِیری کا کیا جوڑ ھے
تعلّق کا یہ آخری موڑ ھے

بہُت دوستی کا ھے رکھا بھرم
مگر اب تو سِینے میں گُھٹتا ھے دم

مُجھے ناز ھے جو بھی، جیسا بھی ھُوں
مگر آخری بات کہتا چلُوں

الگ کل جو عُہدے سے ھونا پڑے
تُجھے پِھر اکیلے نہ رونا پڑے

اگر اب بھی سنبھلے تو کیا بات ھے
وگرنہ تجھے وقت سے مات ھے۔

رشِید حسرتؔ

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔