دکھوں میں سرپرستی آپ نے کی

ایک اردو غزل از رشید حسرت

دکھوں میں سرپرستی آپ نے کی
گھڑی تھی یہ محبت ماپنے کی

توقع شر کی ان سے بالیقیں ہے
کیے جاتے ہیں جن سے آپ نیکی

ملا کیا؟ کیوں رہا کرتی تھی تم کو
بڑی جلدی کتابیں چھاپنے کی

ہوائیں کوئٹہ کی کاٹتی ہیں
کہ رُت آئی بدن کو تاپنے کی

مرا ناول ادھورا رہ گیا ہے
کہیں سے کوئی دستی لا پنے کی

ابھی کیچڑ میں لت پت پھر رہا ہے
سزا پائی ہے سب پر تھاپنے کی

سُروں میں کوئی سرگم ہے، نہ دھن ہے
اسے عادت ہے مالا جاپنے کی

شکایت کی مری حسرتؔ کسی نے
کہوں کیسے جو درگت باپ نے کی

مجھے ڈسنے چلا تھا رازداں ہی
مگر حسرتؔ حفاظت ساپ نے کی

رشید حسرتؔ

مورخہ ۰۴ دسمبر ۲۰۲۴ دوپہر ۰۱ بج کر ۲۵ منٹ پر مکمل ہوئی

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔