دکھوں میں سرپرستی آپ نے کی
گھڑی تھی یہ محبت ماپنے کی
توقع شر کی ان سے بالیقیں ہے
کیے جاتے ہیں جن سے آپ نیکی
ملا کیا؟ کیوں رہا کرتی تھی تم کو
بڑی جلدی کتابیں چھاپنے کی
ہوائیں کوئٹہ کی کاٹتی ہیں
کہ رُت آئی بدن کو تاپنے کی
مرا ناول ادھورا رہ گیا ہے
کہیں سے کوئی دستی لا پنے کی
ابھی کیچڑ میں لت پت پھر رہا ہے
سزا پائی ہے سب پر تھاپنے کی
سُروں میں کوئی سرگم ہے، نہ دھن ہے
اسے عادت ہے مالا جاپنے کی
شکایت کی مری حسرتؔ کسی نے
کہوں کیسے جو درگت باپ نے کی
مجھے ڈسنے چلا تھا رازداں ہی
مگر حسرتؔ حفاظت ساپ نے کی
رشید حسرتؔ
مورخہ ۰۴ دسمبر ۲۰۲۴ دوپہر ۰۱ بج کر ۲۵ منٹ پر مکمل ہوئی