پکھلین ادبی سوسائٹی، جناح بیسک سکول اینڈ کالجز مانسہرہ کے زیرِ اہتمام معروف ادیب، محقق، نقاد اور استاد ڈاکٹر عامر سہیل کی علمی ادبی اور تدریسی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جو اپنی نوعیت میں منفرد اور بھرپور رہی۔
میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ مجھے ڈاکٹر عامر سہیل جیسی بلند پایہ علمی و ادبی شخصیت کے ساتھ مکالمے کا موقع ملا۔ تقریب کے دوران ان کی زندگی، تقریباً تین دہائیوں پر محیط تدریسی سفر، علمی و تحقیقی کام، ادبی وابستگی اور ہزارہ کے ادبی منظرنامے کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ سوالات کے ذریعے ان کی شخصیت کے ان پہلوؤں تک پہنچنے کی کوشش کی جو ایک استاد، محقق، نقاد اور ادیب کی حیثیت سے ان کے سفر کو منفرد بناتے ہیں۔
ڈاکٹر عامر سہیل نے اپنی طویل تدریسی زندگی میں نہ صرف علم منتقل کیا بلکہ نسلِ نو کی فکری اور شخصی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی علمی شناخت میں تحقیق، تنقید ایک نمایاں حوالہ ہے۔ ان سے گفتگو کے دوران یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ ایک حقیقی استاد کی ریٹائرمنٹ دراصل علم و فکر کے سفر کا اختتام نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ زندگی کے ایک نئے علمی مرحلے کا آغاز ہوتی ہے۔
اس خوب صورت نشست کی اور اہم بات یہ ہے کہ دوران مکالمہسید ماجد شاہ، مسز مونا عامر ، ڈاکٹر عادل سعید قریشی، طارق اعوان، مسز سمیرا واحد، عبدالواحد سراج صاحب نے بھی گفتگو ڈاکٹر عامر سہیل کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ خاص طور پر مسز مونا عامر سہیل نے ڈاکٹر عامر سہیل کی شخصیت کے نجی اور خانگی پہلوؤں پر گفتگو کرکے اس مکالمے کو ایک مختلف اور خوب صورت جہت عطا کی۔
تقریب میں ڈاکٹر عامر سہیل کی طویل علمی، ادبی اور تدریسی خدمات کے اعتراف میں انہیں یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔ محفل کا اختتام کیک کٹنگ اور پرتکلف چائے کے ساتھ ہوا، مگر میرے لیے اس نشست کی اصل یاد وہ مکالمہ ہے جو ایک استاد، محقق اور ادیب کی زندگی کے تجربات کو قریب سے سننے کے باعث ہمیشہ یاد رہے گا۔
ڈاکٹر عامر سہیل جیسے صاحبِ علم و صاحبِ نظر شخص سے سوال کرنا، ان کے خیالات کو سننا اور ان کے علمی سفر کے مختلف مراحل کو مکالمے میں سمیٹنے کی کوشش کرنا میرے لیے یقیناً ایک اعزاز ہے۔
میں پکھلین ادبی سوسائٹی اور جناح بیسک سکول اینڈ کالجز مانسہرہ اور بالخصوص فیاض احمد خان صاحب اور جناب عادل سعید قریشی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس خوب صورت ادبی نشست کی نظامت کا موقع دیا۔ ایسی محفلیں صرف شخصیات کو خراجِ تحسین پیش نہیں کرتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے علم، ادب اور مکالمے کی روایت کو بھی زندہ رکھتی ہیں۔
سہیل احمد صمیم