"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

تحریر: سہیل احمد صمیمؔ

سراج احمد تنولی کی کتاب "دیا” (کالمز کا مجموعہ )، قلم کی روشنی اور عہد کی گواہی

کالمز کی دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے قلم کی روشنائی صرف کاغذ پر نہیں بکھرتی بلکہ سماج کے ہر گوشے میں اپنے اثرات چھوڑتی ہے۔ سراج احمد تنولی انہی قلمکاروں میں سے ایک ہیں، جو اپنے الفاظ کو محض تحریر کا حصہ نہیں بناتے بلکہ ان میں شعور، درد اور ذمہ داری کی روح پھونک دیتے ہیں۔ ان کا مجموعۂ کالم "دیا” اسی فکری اور تخلیقی سفر کی ایک روشن کڑی ہے۔
یہ کتاب سراج کے اخبارات میں شائع ہونے والے ان کے کالمز کا منتخب مجموعہ ہے، جس میں 67 کالمز شامل ہیں۔ ان تحریروں میں سراج احمد تنولی نے صرف واقعات نہیں سموئے بلکہ سماجی حقیقتوں اور سیاسی دھاروں کو عام آدمی کے مسائل کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا ہے۔ ان کی نثر محض تنقید نہیں بنتی؛ اس میں اصلاحی پہلو بھی نمایاں ہے اور دلائل کی مضبوطی بھی—یوں قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے لکھاری کو پڑھ رہا ہے جو اپنے عہد کی گواہی پوری ذمہ داری سے دے رہا ہے اور جس کی تحریروں پر اپنی مقامی تہذیب کا گہرا اثر ہے۔ ان کا جھنجھوڑنے والا موقف مگر شائستہ انداز ہی انہیں منفرد بناتا ہے۔
کتاب میں کئی کالم اپنی معنویت اور تہہ داری کے باعث نمایاں ہیں، مثلاً
"ووٹ کی حقیقی عزت کیا ہے” ، جمہوری شعور اور شہری ذمہ داری پر واضح اور مدلل بحث۔
"مردم شماری کی افادیت”، اعداد و شمار کے سماجی و معاشی اثرات کی فکر انگیز توضیح۔
"پتھر روتے ہیں نئے افسانوں کی دنیا میں”، نعیم یاد کی افسانوں کی کتاب کے تناظر میں جدید افسانے کی جمالیات اور معاشرتی حسیت پر بلیغ تبصرہ۔
"انسانی اعضاء اور گدھ”، مستنصر حسین تارڑ کی ایک تحریر کی تفہیم پر لکھا گیا شاندار کالم، جس میں اخلاقیات، انسانی حرمت اور سماجی رویّوں کا باریک مطالعہ ملتا ہے۔
"متاثرینِ تربیلا ڈیم”، خطے کی تاریخ کے ایک بڑے تہذیبی المیے پر چشم کشا نوٹ؛ اجڑی ہوئی آبادیاں، بدلتی معیشت اور اجتماعی یادداشت کا نوحہ۔
"سوشل میڈیا پر لگام کی ضرورت”، ڈیجیٹل بے مہاری، جھوٹی خبروں اور اخلاقی انحطاط پر بروقت تنبیہ۔

البتہ سراج احمد تنولی کا ایک کالم "اب بھٹو کا مرنا ہوگا” بھی ہے، جس سے میں ذاتی طور پر اتفاق نہیں کرتا۔ کیونکہ ان کے نزدیک، بھٹو کے نام پر پاکستان پیپلز پارٹی جو ووٹ حاصل کر رہی ہے، اس کی موجودہ ناکامی اس بات کی دلیل ہے کہ بھٹو کا سیاسی حوالہ ختم ہو جانا چاہیے۔ لیکن میرے نزدیک یہ دلیل کمزور ہے، کیونکہ بھٹو کی اپنی سیاسی بصیرت، عوامی خدمات اور تاریخی کردار کو صرف پیپلز پارٹی کی کارکردگی کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ چاہے پیپلز پارٹی ناکام ہو یا کامیاب، بھٹو کی یاد اور ان کا مقام /رندہ رہنا اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔

مجموعی طور پر سراج کی تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ سراج احمد تنولی کی نظر ایک ساتھ مقامی بھی ہے اور کائناتی بھی—وہ اپنے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھتے ہیں، مگر استدلال اور تناظر انہیں وسیع میدانِ فکر میں کھڑا کر دیتا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ "دیا” کے علاوہ ان کی دو اور کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں، جن میں ایک اہم حوالہ "انسائیکلوپیڈیا آف مانسہرہ” ہے، اپنے خطے کی تاریخ، جغرافیہ اور ثقافت پر ایک جامع اور مفید دستاویز۔ یہ تنوع بتاتا ہے کہ سراج احمد تنولی محض کالم نگار نہیں بلکہ محققانہ مزاج رکھنے والے صاحبِ نظر قلمکار ہیں۔
"دیا” کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف مضامین نہیں، دورِ حاضر کی معنوی روداد ہے۔ جہاں حق و صداقت کی آواز، اصلاحِ معاشرہ کی تمنا، اور دلیل کی، روشنی ایک ساتھ سفر کرتی ہے۔ یہی روشنی، یہی دیا—ہمیں اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہوں۔
اللہ کرے سراج کا سفر یوں ہی جاری و ساری رہے

سہیل احمد صمیمؔ

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔