دن کے بارہ بج جائیں گے

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

دن کے بارہ بج جائیں گے جب وہ لڑکی جاگے گی
کام ادھورے کرنے والی خواب مکمل دیکھے گی

موج میں آئی مست پہاڑن نیچے والی شاخوں سے
کچا سیب اتارے گی اور آدھا کھا کر پھینکے گی

عید سے ہفتہ پہلے ہی یہ شرطیں لگنے لگتی ہیں
کیسے بال بناۓ گی وہ کون سے کپڑے پہنے گی

اتنے لوگ کہاں آتے ہیں چھوٹے سے اس کمرے میں
یہ جو تازہ عشق کیا ہے کس کونے میں رکھے گی

یارا ایک ڈرامہ ہے اور کب سے دیکھ رہا ہوں میں
مجھ سے کھیلنے والی لڑکی تجھ سے کیسے کھیلے گی

اچھا خاصا وقت لگے گا ساجد کھڑکی کھلنے میں
ہم تو بوڑھے ہو جائیں گے جب تبدیلی آئے گی

لطیف ساجد

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے